رکن قومی اسمبلی چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے وزارتِ قومی صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی ) کو میڈیکل کالجز میں خالی نشستوں کے مسئلے کے حل، فیسوں میں تفاوت کا جائزہ لینے اور میڈیکل تعلیمی اداروں کی موثر نگرانی کے لئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے وزارتِ قومی صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی ) کو میڈیکل کالجز میں خالی نشستوں کے مسئلے کے حل، فیسوں میں تفاوت کا جائزہ لینے اور میڈیکل تعلیمی اداروں کی موثر نگرانی کے لئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ 2026 (ایم ڈی کیٹ) کے حوالے سے پی ایم ڈی سی کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ امیدواروں کو سہولت فراہم کرنے اور امتحان کو شفاف، محفوظ اور منظم انداز میں منعقد کرنے کے لئے ایم ڈی کیٹ 2026 اب اتوار 20 ستمبر 2026 کو منعقد ہوگا۔ایم ڈی کیٹ کا امتحان منعقد کرنے والی جامعات کے وائس چانسلرز نے خالی نشستوں اور میڈیکل کالجز کی فیسوں بالخصوص زیادہ فیس وصول کرنے والے اداروں سے متعلق امور پر اپنی تجاویز پیش کیں۔

وزیرِ قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ متعدد میڈیکل کالجز نے فیسوں میں اضافے کی درخواست کی ہے تاہم جامعات کو فیسوں میں یکطرفہ طور پر اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جائزے میں شامل 61 میڈیکل کالجز میں سے 35 ادارے مقررہ معیار پر پورا اترے ہیں۔کمیٹی نے ان 35 اداروں کی فیسوں کے تعین کی وجوہات، فیس سٹرکچر کی جانچ پڑتال اور آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے طلب کر لئے۔ پی ایم ڈی سی کو ان اداروں کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے لیکن اس کے باوجود زیادہ فیس وصول کر رہے ہیں یا اپنی ویب سائٹس پر زیادہ فیس ظاہر کر رہے ہیں۔پی ایم ڈی سی نے کمیٹی کو بتایا کہ تعمیل نہ کرنے والے اداروں کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں اور ان کی نگرانی جاری ہے۔ کمیٹی نے جاری کئے گئے نوٹسز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ فیسوں میں کسی بھی اضافے کے لئے واضح معیار اور قابلِ اعتماد شواہد موجود ہونا ضروری ہیں جن میں تعلیمی معیار، فیکلٹی کی تعداد، بنیادی ڈھانچہ اور آڈٹ شدہ مالیاتی معلومات شامل ہیں۔اجلاس میں میڈیکل کالجز میں خالی نشستوں کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ وزیرِ قومی صحت نے بتایا کہ خالی نشستیں ایک حقیقی اور وسیع تر مسئلہ ہیں اور اسے صرف فیسوں یا ایم ڈی کیٹ میں اہلیت کے مقررہ فیصد سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت نے دیگر پیشہ ورانہ شعبوں کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی لیا ہے جبکہ میڈیکل تعلیم میں طلبہ کی کم ہوتی دلچسپی بھی اس مسئلے کا اہم پہلو ہے۔سرکاری میڈیکل کالجز میں نشستوں میں اضافے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔ پی ایم ڈی سی نے بتایا کہ معائنوں کے بعد پنجاب، سابق فاٹا اور بلوچستان کے لئے اضافی نشستیں پہلے ہی مختص کی جا چکی ہیں۔ سندھ میں نشستوں کی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔کمیٹی کے ارکان اور داخلہ ٹیسٹ منعقد کرنے والی جامعات کے وائس چانسلرز نے موقف اختیار کیا کہ سرکاری شعبے میں نشستوں میں اضافے کے لئے اضافی انفراسٹرکچر، رجسٹریشن کی گنجائش اور مطلوبہ فزیکل سپیس درکار ہوگی۔چیئرمین کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے پر حکومتِ سندھ اور متعلقہ نمائندوں کے ساتھ الگ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔کمیٹی نے زور دیا کہ خالی نشستوں کے معاملے کی مکمل تحقیقات کے بغیر مزید کوئی پالیسی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی گئی کہ خالی نشستوں والے نجی میڈیکل کالجز کا معائنہ کرکے رپورٹ پیش کی جائے جس میں خالی نشستوں کی وجوہات کی نشاندہی کی جائے۔کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں طلب کردہ معلومات فراہم کرنے میں تاخیر پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ ایک ماہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔قائمہ کمیٹی نے میڈیکل کالجز کے باقاعدہ معائنے اور موثر نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ چیئرمین نے کہا کہ مطلوبہ معیار برقرار نہ رکھنے والے یا مسلسل بڑی تعداد میں خالی نشستوں کا سامنا کرنے والے اداروں کے خلاف مناسب ریگولیٹری کارروائی کی جانی چاہیے جس میں منظور شدہ نشستوں پر نظرِ ثانی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ایم ڈی کیٹ میں اہلیت کے موجودہ 60 فیصد معیار پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ کمیٹی نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا اس شرح میں بتدریج کمی سے میڈیکل تعلیم تک رسائی کو وسیع کیا جا سکتا ہے تاہم کمیٹی نے خبردار کیا کہ موجودہ تعلیمی معیار سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو میڈیکل تعلیم کے اگلے مراحل میں کامیابی حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

کمیٹی نے قرار دیا کہ میڈیکل تعلیم تک رسائی میں اضافے اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے درمیان توازن ضروری ہے۔اجلاس میں بی ڈی ایس پروگرام کا دورانیہ چار سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث آئی جس کا مقصد اسے بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔پی ایم ڈی سی نے بتایا کہ موجودہ پروگرام کے تحت پہلے سے زیرِ تعلیم طلبہ کے لئے مناسب انتظامات پر غور کیا جائے گا۔ کمیٹی نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل (پی این ایم سی ) سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نرسنگ اداروں کے معائنے جاری ہیں اور انسپکٹرز کی جانب سے معائنے کا ڈیٹا حقیقی وقت میں ریکارڈ کرنے کے لیے نئی ڈیجیٹل ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے۔نرسنگ کے شعبے میں شکایات کے اندراج کے لئے الگ پورٹل بھی قائم کیا گیا ہے، جبکہ لائسنسنگ کے عمل کو ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے جس کے تحت درخواست دہندگان فارم، فیس چالان اور دیگر درخواستیں الیکٹرانک طریقے سے جمع کرا سکتے ہیں۔

کمیٹی ارکان نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے جاری شکایات بالخصوص ہراسانی سے متعلق شکایات کے موثر ازالے پر زور دیا۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے پر تفصیلی غور کے لئے آئندہ اجلاس پی این ایم سی میں منعقد کیا جائے گا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سابقہ سفارشات کی روشنی میں فارمیسی کونسل بل پر کام شروع کر دیا گیا ہے جس کی تکمیل کے بعد اسے کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کہا کہ کمیٹی متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے بروقت، شواہد پر مبنی اور نتیجہ خیز اقدامات کی توقع رکھتی ہے بالخصوص خالی نشستوں، اداروں کے معائنے، فیسوں کے ضابطے اور ملک میں میڈیکل تعلیم کے معیار کے حوالے سے۔

اجلاس میں ایم این ایز زہرا ودود فاطمی، فرح ناز اکبر، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، ڈاکٹر شائستہ خان، ڈاکٹر نکہت شکیل خان، عالیہ کامران، ڈاکٹر درشن، سبین غوری اور گل اصغر خان نے شرکت کی۔ وزیرِ قومی صحت، وزارتِ قومی صحت کے سینئر افسران اور اس سے منسلک اداروں کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔