زراعت معیشت کا اہم شعبہ ہے، پاکستان زراعت میں انقلاب لا سکتا ہے، سیّد فخر امام

اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ زراعت معیشت کا اہم شعبہ ہے، پاکستان زراعت میں انقلاب لا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو خریف سیزن کے بارے میں فیڈرل کمیٹی برائے زراعت (ایف سی اے) کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کا ایک …

اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ زراعت معیشت کا اہم شعبہ ہے، پاکستان زراعت میں انقلاب لا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو خریف سیزن کے بارے میں فیڈرل کمیٹی برائے زراعت (ایف سی اے) کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے زراعت کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملک کی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گذشتہ سال گندم کی پیداوار کا ہدف 27 ملین ٹن تھا، اس سال 1.4 ملین ٹن کی کمی ہے، اس سال خریداری کےلئے 79.95 فیصد ہدف حاصل کیا گیا ہے۔ سیّد فخر امام نے کہا کہ ہمیں گندم کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، ہمیں جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعہ اعلیٰ پیداوار گندم کی مختلف اقسام بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں آبپاشی کا بہترین نظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم پاکستان کے کاشت شدہ رقبے کا 36فیصد ہے۔ اس موقع پر فوڈ سکیورٹی کمشنر ڈاکٹر وسیم نے کہا کہ کئی سالوں کے بعد ہمارے ملک نے ہدف سے زیادہ 540,000 ٹن چنا پیدا کیا ہے، اس سال پیداوار میں 23.71 فیصد اضافہ ہوا ہے۔پچھلے سال آلو کی پیداوار 4.4 ملین ٹن تھی جبکہ اس سال اس کی پیداوار 4.43 ملین ٹن ہے، اس سال بلوچستان میں ٹماٹر کی بھرپور پیداوار ہے۔ سیّد فخر امام نے کہا کہ ہمیں تیل کے بیج (سورج مکھی، کینولا، روزہپ سیڈ اور سرسوں) کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ارسا کے نمائندے نے بتایا کہ اس سال خریف سیزن میں 9 فیصد پانی زیادہ دستیاب ہو گا۔ محکمہ موسمیات پاکستان کی نمائندے نے کہا کہ پوٹھوہار اور کشمیر کے علاقے میں آئندہ 3 ماہ میں شدید بارش ہو گی جو فصلوں کےلئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے نے بتایا کہ اس سال زرعی قرضوں کا 95 فیصد ہدف حاصل کیا جائے گا۔اسی طرح اس سال چاول کا ہدف 7.9 ملین ٹن، مکئی 6.7 ملین ٹن، مونگ ایک لاکھ 40 ہزار ٹن ، ماش 10 ہزار 3 ہزار ٹن اور مرچ ایک لاکھ 21 ٹن ہے۔ڈاکٹر وسیم ، فوڈ سکیورٹی کمشنر نے شرکا سے گذشتہ سال ایف سی اے اجلاس کے فیصلوں کی صورتحال کو اپ ڈیٹ کرنے کو کہا۔ ایف ایس سی اور آرڈی نے واضح کیا کہ وہ بلوچستان میں دالوں اور چارے کے بیج کی تیاری کے طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایف ایس سی اور آرڈی نے بلوچستان کی 3 کمپنیوں سے ملاقاتیں کیں۔ سیّد فخر امام نے کہا کہ ہمیں بیج ٹیکنالوجی کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکرٹری قومی غذائی تحفظ عمر حمید نے بلوچستان اور ایف ایس سی اور آر ڈی کے مابین مزید ہم آہنگی کی درخواست کی۔ سیّد فخر امام نے کہا کہ سفید مکھی کیڑے مارنے کے خلاف مزاحم ہوتی جارہی ہے ہمیں کیڑے مار دوائیوں کی نفیس مصنوعات کی ضرورت ہے۔ وفاقی سیکرٹری عمر حمید نے صوبوں سے این ایس ایف اینڈ آر کو کیڑے مار دوا کی تازہ ترین فہرست فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سیّد فخر امام نے پھلوں اور سبزیوں کی برآمد کے لئے بین الاقوامی پروٹوکول کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کو کہا۔