اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیربرائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) میں برآمد کنندگان سے اعلیٰ سطحی مشاورتی ملاقات کے دوران زرعی برآمدات کے فروغ پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی میں زرعی برآمد کنندگان اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت …
زرعی برآمدات میں اضافے کے لیے عملی حکمت عملی ناگزیر، برآمدات ہی معیشت کی اصل بنیاد ہیں، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیربرائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) میں برآمد کنندگان سے اعلیٰ سطحی مشاورتی ملاقات کے دوران زرعی برآمدات کے فروغ پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی میں زرعی برآمد کنندگان اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت بھی کی جس کا مقصد برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کا جائزہ لینا اور پاکستان کی زرعی برآمدات میں اضافے کے لیے عملی حکمت عملی مرتب کرنا تھا۔
یہ اجلاس وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر منعقد کیا گیا تاکہ بالخصوص زرعی شعبے میں برآمدات میں کمی کی وجوہات کا تفصیلی تجزیہ کیا جا سکے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس کی قیادت وائس پریزیڈنٹ ایف پی سی سی آئی طارق جدون نے کی جبکہ قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب ریاض نے وفاقی وزیر کا خیرمقدم کیا۔ اجلاس میں ملک بھر سے زراعت، لائیو سٹاک، گوشت، چاول، پھلوں اور سبزیوں سے وابستہ برآمد کنندگان اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے اقتصادی اور سیاسی سفارت کاری کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں بھارت کے ساتھ علاقائی سطح پر پیش رفت بھی شامل ہے جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان سفارتی کامیابیوں کے باوجود پاکستان کی برآمدات کا حجم اب بھی تقریباً 30 سے 32 ارب ڈالر تک محدود ہے جو پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناکافی ہے۔ رانا تنویر حسین نے واضح کیا کہ برآمدات ہی قومی معیشت کی اصل بنیاد ہیں جبکہ ترسیلات زر محض ایک معاون ذریعہ ہیں اور پائیدار حل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشی وژن برآمدات پر مبنی معیشت کی تشکیل ہے جس میں درآمدات پر انحصار کم کر کے مقامی کسانوں اور مقامی صنعت کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے معیاری پیداوار اور مسابقتی قیمتیں ناگزیر ہیں۔وفاقی وزیر نے گوشت، لائیو سٹاک اور چاول کے شعبوں کو برآمدات میں اضافے کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک پاکستانی تازہ گوشت اور چاول درآمد کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ تاجکستان کی جانب سے تقریباً ایک لاکھ ٹن گوشت کی طلب بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو اپنی پیداوار، پراسیسنگ اور ریگولیٹری نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہو گا۔ علاقائی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے پابندیوں کے باوجود اپنی مقامی صنعت کو فروغ دیا جو پالیسی تسلسل اور اندرونی صلاحیتوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب ریاض نے کہا کہ برآمدات وہ واحد شعبہ ہیں جن میں درآمدی اشیاء پر زیادہ انحصار کے بغیر ترقی کی گنجائش موجود ہے تاہم انہوں نے زیادہ ٹیکس شرح، ایف بی آر کی پیچیدہ پالیسیوں اور رویے اور زرعی زمینوں کا تیزی سے ہائوسنگ سکیموں میں تبدیل ہونے جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی کی۔
انہوں نے زور دیا کہ زرعی زمینوں کا تحفظ ناگزیر ہے اور اگر کہیں تبدیلی ناگزیر ہو تو اسے صرف زرعی بنیادوں پر قائم صنعتوں تک محدود کیا جانا چاہیے۔وائس پریزیڈنٹ ایف پی سی سی آئی طارق جدون نے کہا کہ بعض ممالک کے ساتھ کیے گئے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی ایز) متوازن فوائد فراہم نہیں کر رہے، اس لیے انہیں قومی برآمدی مفادات کے تناظر میں دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے آلو اور کینو کی ریزرویشن اور مارکیٹ تک رسائی سے متعلق مسائل اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ سہولیات، بہتر لاجسٹکس اور معاون پالیسیوں کے ذریعے ان اہم باغبانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے تمام مسائل کے حل کے لیے حکومت کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ایف پی سی سی آئی اور برآمد کنندگان کو ہدایت کی کہ وہ درپیش مسائل اور تجاویز کی ایک جامع فہرست تیار کریں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی ایک فالو اپ اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ برآمد کنندگان کے مسائل قلیل مدت میں حل کیے جائیں گے اور قومی پالیسیوں کو ہم آہنگ کر کے پاکستان کو زرعی، لائیو سٹاک اور ویلیو ایڈڈ پیداوار پر مبنی ایک مضبوط، مسابقتی اور برآمدات پر مرکوز معیشت کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔







