اسلام آباد ۔ 15 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ چائلڈ لیبر کے حوالے سے سروے آئندہ سال جون میں مکمل ہوجائے گا' اسلام آباد میں ایک مزید چائلڈ پروٹیکشن سنٹر بنایا جارہا ہے' سیکس افنڈرز رجسٹری کی شروعات کی ہیں تاکہ اس بارے میں دنیا کو آگاہ کرسکیں' راولپنڈی میں بچوں سے جنسی زیادتی کی وڈیوز بنانے والے سہیل ایاز …
زینب بل کو جلد نمٹایا جائے’ پورے ملک میں اس پر عملدرآمد ہوگا، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا قومی اسمبلی میں جواب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ چائلڈ لیبر کے حوالے سے سروے آئندہ سال جون میں مکمل ہوجائے گا’ اسلام آباد میں ایک مزید چائلڈ پروٹیکشن سنٹر بنایا جارہا ہے’ سیکس افنڈرز رجسٹری کی شروعات کی ہیں تاکہ اس بارے میں دنیا کو آگاہ کرسکیں’ راولپنڈی میں بچوں سے جنسی زیادتی کی وڈیوز بنانے والے سہیل ایاز کے معاملے میں ورلڈ بنک اور صوبائی حکومت دونوں کی کوتاہی ہے’ ایف آئی اے نے ان کے ڈی پورٹ ہونے پر یہ معلومات نہیں لیں کہ اس کی وجوہات کیا ہیں’ راولپنڈی پولیس کی کارکردگی قابل تعریف ہے’ انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی زینب الرٹ بل کو فوری منظور کرے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں شہناز اکبر عزیز کے بچوں کے حقوق کی پامالی کے نتیجہ میں لاکھوں بچوں کے غربت’ معذوری’ تعلیم کے فقدان’ ناکافی غذا کے باعث کمزور صحت والی زندگی گزارنے’ نیز جنسی زیادتی’ تشدد’ بچہ مزدوری اور جبری گداگری سمیت بدسلوکی کا نشانہ بننے سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں شیریں مزاری نے کہا کہ گزشتہ روز دفاتر بند ہونے پر ہمیں آگاہ کیا گیا کہ یہ توجہ دلائو نوٹس آنا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے اس کی تیاری کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس توجہ دلائو نوٹس کی میں الفاظ کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا۔ ہم نے سکول سے باہر بچوں کے لئے اسلام آباد میں شام کے اوقات میں تعلیم کا انتظام کیا ہے۔ احساس پروگرام کے تحت غذا کی کمی’ صحت کارڈ کے ذریعے صحت کی تمام خاندان کو سہولیات دی جارہی ہیں۔ ہم چائلڈ لیبر کے حوالے سے سروے کرا رہے ہیں جو جون 2020ء میں مکمل ہوگا۔ ہر صوبے میں علاقائی عملدرآمد مراکز قائم ہیں۔ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں یہ کام نہیں کر رہے۔ چائلڈ رائٹس کے حوالے سے کمیشن بن چکا ہے۔ اسلام آباد چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2018ء پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن سنٹر کے لئے عمارت کی نشاندہی ہوگئی ہے۔ اس قانون کے تحت بچوں کو ریاست اپنے تحفظ میں لے سکتی ہے۔ بچوں سے زیادتی کے حوالے سے قانون موجود ہے۔ سانحہ قصور کے تمام ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ سہیل ایاز خیبرپختونخوا میں کنسلٹنٹ تھا۔ وہ بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہوا۔ ایف آئی اے نے اسی وجہ سے سیکس افنڈرز رجسٹری کی شروعات کی ہیں تاکہ اس بارے میں آگاہ کرسکیں۔ زینب بل کمیٹی کے پاس ہے اس کو جلد نمٹایا جائے’ پورے ملک میں اس پر عملدرآمد ہوگا۔ مہناز اکبر عزیز کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد کے لئے کوشاں ہیں۔ ہم سکولوں میں جاکر اساتذہ اور بچوں کے والدین کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ سہیل ایاز والا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ اس درندے نے 30 بچوں کے ساتھ زیادتی کی۔ ہمیں کیوں نہیں پتہ چلا کہ یہ درندہ خیبر پختون خوا میں ملازم ہے۔ یہ کس کی سفارش پر بھرتی ہوا۔ اس کی تحقیقات کے لئے ایوان کی کمیٹی قائم کی جائے۔ پہلے کہا گیا کہ یہ ورلڈ بنک کا ملازم ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ورلڈ بنک کا نمائندہ جھوٹ بھول رہا ہے۔ ورلڈ بنک کے منصوبے میں اس شخص کو کنسلٹنٹ ورلڈ بنک نے رکھا۔ اس میں خیبر پختون خوا حکومت اور ورلڈ بنک دونوں کی کوتاہی ہے۔








