زین الدین زیدان نے فرانس کی قومی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔بی بی سی کے مطابق فرانس کی قومی فٹبال ٹیم ترکیہ کے خلاف میچ میں 14 سال بعد پہلی مرتبہ نئے ہیڈ کوچ کے ساتھ میدان میں اترے گی، جہاں سابق عالمی چیمپئن زین الدین زیدان کی کوچ کی حیثیت سے نئی ذمہ داری کا آغاز ہوگا۔
زین الدین زیدان نے فرانس کی قومی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھال لیا

مزید خبریں
پیرس ۔25ستمبر (اے پی پی):زین الدین زیدان نے فرانس کی قومی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔بی بی سی کے مطابق فرانس کی قومی فٹبال ٹیم ترکیہ کے خلاف میچ میں 14 سال بعد پہلی مرتبہ نئے ہیڈ کوچ کے ساتھ میدان میں اترے گی، جہاں سابق عالمی چیمپئن زین الدین زیدان کی کوچ کی حیثیت سے نئی ذمہ داری کا آغاز ہوگا۔
زیدان نے فرانس کے ورلڈ کپ میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد ڈیڈیئر دیشامپ کی جگہ سنبھالی ہے۔ تاہم دونوں کے درمیان رابطے فروری 2025 میں ہی شروع ہوگئے تھے، جب دیشامپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ 2026 کے ورلڈ کپ کے بعد عہدہ چھوڑ دیں گے۔زیدان نے کوچ بننے کے بعد کہا کہ گزشتہ 4 سے 5 برسوں کے دوران انہیں کئی پیشکشیں ہوئیں لیکن انہوں نے سب مسترد کردیں، کیونکہ ان کی خواہش صرف فرانس کی قومی ٹیم کی کوچنگ کرنا تھی۔فرانس کے سابق عظیم مڈفیلڈر کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم میں کچھ تبدیلیاں ضرور لائیں گے، تاہم دیشامپ کے دور کے کام کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔
زیدان نے اس وقفے کے لیے 5 ایسے کھلاڑیوں کو بھی سکواڈ میں شامل کیا ہے جو ابھی تک فرانس کی سینئر قومی ٹیم کی جانب سے نہیں کھیلے۔زیدان بطور کھلاڑی فرانس کے سب سے کامیاب فٹبالرز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 1998 کے ورلڈ کپ میں فرانس کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا اور برازیل کے خلاف فائنل میں 2 گول کیے۔ وہ 2000 میں یورپی چیمپئن شپ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔کلب فٹبال میں زیدان نے یووینٹس اور ریال میڈرڈ کے ساتھ لیگ اور یورپی ٹائٹلز جیتے۔ 2001 میں وہ اس وقت کی ریکارڈ فیس 45.8 ملین پاؤنڈ میں ریال میڈرڈ کا حصہ بنے۔
کوچ کی حیثیت سے بھی زیدان نے ریال میڈرڈ کو نمایاں کامیابیاں دلائیں اور خاص طور پر بڑے ناموں اور تجربہ کار کھلاڑیوں سے بھرپور ٹیم کو سنبھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔زیدان نے اپنے کھیل کے انداز کے بارے میں تفصیلی حکمت عملی بتانے سے گریز کیا ہے، تاہم ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جارحانہ فٹبال کو اہمیت دیتے ہیں۔ فرانس کے پاس کیلین ایمباپے، عثمان ڈیمبیلے، ڈیزائر دوئے اور مائیکل اولیز جیسے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔فرانس نے گزشتہ ورلڈ کپ مہم کے دوران 20 گول کیے تھے، جس سے زیدان کو ایک ایسی ٹیم ملی ہے جس میں پہلے ہی جارحانہ صلاحیت موجود ہے۔
تاہم 5 سال تک مینیجر کی حیثیت سے میدان سے دور رہنے کے بعد قومی ٹیم کی کوچنگ زیدان کے لیے ایک نیا تجربہ بھی ہوگی۔فرانسیسی کھلاڑیوں اور شائقین نے زیدان کی تقرری کا مجموعی طور پر مثبت استقبال کیا ہے۔ کیلین ایمباپے نے بھی ان کی تقرری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے فرانسیسی فٹبال کے لیے اہم دن قرار دیا۔ترکیہ کے خلاف میچ کے بعد فرانس کو آئندہ 3 ہفتوں کے دوران بیلجیم کے خلاف 2 اور اٹلی کے خلاف 1 میچ بھی کھیلنا ہے۔
زیدان کی قومی ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے اس نئی ذمہ داری میں یہ مقابلے ان کے لیے کھلاڑیوں، حکمت عملی اور ٹیم کے نئے انداز کو آزمانے کا اہم موقع ہوں گے۔







