سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 07 مئی (اے پی پی) سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کے خلاف کیس میں حقائق ہوتے، اس کے اندر کوئی مواد ہوتا یا اس میں لگائے گئے الزامات صحیح ہوتے تو یہ آٹھ مہینے نہ لیتا بلکہ اس کا فیصلہ آٹھ ہفتوں میں ہو جاتا، اگر آٹھ ماہ بعد بھی اس کیس کا فیصلہ نہیں ہو رہا تو تسلیم کرلیا جانا …

اسلام آباد ۔ 07 مئی (اے پی پی) سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کے خلاف کیس میں حقائق ہوتے، اس کے اندر کوئی مواد ہوتا یا اس میں لگائے گئے الزامات صحیح ہوتے تو یہ آٹھ مہینے نہ لیتا بلکہ اس کا فیصلہ آٹھ ہفتوں میں ہو جاتا، اگر آٹھ ماہ بعد بھی اس کیس کا فیصلہ نہیں ہو رہا تو تسلیم کرلیا جانا چاہیے کہ اس میںکچھ نہیں ہے۔ پیر کو یہاں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد نواز شریف نے کہا کہ آج تک ایک بھی ایسا گواہ نہیں آیا، ایک بھی ایسا کاغذ اور دستاویز نہیں پیش کی گئی جس سے یہ ثابت ہو سکتا کہ اس مقدمے میں کوئی حقیقت ہے،گواہ، بشمول غیر ملکیوں کے، جھوٹے پڑتے رہے، رابرٹ ریڈ لے بھی الٹا ہمیں ہی تقویت پہنچا کر گیا، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ کتنا کمزور کیس ہے اور میں تو اپنے وکیل سے مشورہ کر رہا تھا کہ کیا اب وقت آ نہیں گیا کہ آپ بریت کی درخواست دیں،کیس کو جتنا بھی کھینچیں گے اس میں کچھ نہیں ہے، کیا اس کو اس وقت تک کھینچیں گے جب تک اس میں کوئی ایسی چیز نہ مل جائے جس سے نواز شریف کو سزا دی جا سکے، اگر وہ نہیں ہے تو تسلیم کرلیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور الحمداللہ نہیں ہے۔