سالانہ بارشوں کا صرف 25 فیصد زیر زمین پانی کی کمی کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے ، ڈائریکٹر آئی ڈبلیو ایم آئی

انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی ڈبلیو ایم آئی ) کے پانی، خوراک اور ماحولیاتی نظام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محسن حفیظ نے کہا ہے کہ سالانہ بارشوں کے صرف 25 فیصد حصہ کا ذخیرہ زیر زمین پانی کی کمی کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے جس سے اسلام آباد میں شہری سیلاب کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے

اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی ڈبلیو ایم آئی ) کے پانی، خوراک اور ماحولیاتی نظام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محسن حفیظ نے کہا ہے کہ سالانہ بارشوں کے صرف 25 فیصد حصہ کا ذخیرہ زیر زمین پانی کی کمی کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے جس سے اسلام آباد میں شہری سیلاب کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ہفتہ کو قومی خبر رساں ادارہ ’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ڈبلیو ایم آئی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کے کچنار پارک، سیکٹر I-8 میں زمینی پانی کے جدید ترین ریچارج ماڈل کا مظاہرہ کیا گیاہے جس نے گزشتہ چار سال کے دوران 566,000 لیٹر سے زائد بارش کے پانی کو ایک جگہ پر ذخیرہ کیا اور زیر زمین پانی کی سطح اور معیار کو بہتر بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹ اس جگہ قائم کیا گیا جہاں قریبی پریڈ گراؤنڈ سے بارش کا پانی مون سون کے دوران اردگرد کے علاقے کو ڈبو دیتا تھا۔ اس حوالہ سے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا ریچارج تالاب بنایا گیا اور پانی زمین میں داخل ہونے سے پہلے ریت اور پتھروں کی قدرتی فلٹریشن تہوں سے گزرتا ہے۔ڈاکٹر محسن حفیظ نے کہا کہ یہ سائٹ ریئل ٹائم رین گیج، پانی کے بہاؤ کی نگرانی کرنے والے آلات اور زمینی پانی کی نگرانی کرنے والے سینسرز سے لیس ہے جس سے محققین اسلام آباد میں پہلی بار زمینی پانی کے ریچارج اور پانی کے معیار کے بارے میں سائنسی ثبوت تیار کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جون 2022 سے جمع کیے گئے مانیٹرنگ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس منصوبے نے 566,000 لیٹر سے زیادہ پانی کو ری چارج کیا ہے اور زمینی پانی کے معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر مقامی زیر زمین پانی کی سطح کو تقریباً 4.5 ملی میٹر تک بڑھایا ہے۔نتائج سے حاصل حوصلہ افزائی کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے 2024 میں اسلام آباد میں 100 زمینی پانی کی ریچارج سائٹس کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا جس کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں اب تقریباً 200 ریچارج سائٹس کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف زمینی پانی کے ریچارج میں بہتری آئی ہے بلکہ بارش کے پانی کے سیلاب میں بھی کمی آئی ہے اور طوفانی پانی کی نکاسی کے راستوں پر دباؤ کم ہوا ہے۔ڈاکٹر حفیظ نے کہا کہ ریچارج سائٹس کے قریب رہنے والے رہائشیوں نے مون سون کے موسم کے دوران کم سیلاب کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ گھریلو بور میں پانی کی دستیابی میں بہتری آئی ہے جس سے وہ ہر روز زیادہ وقت کیلئے زمینی پانی تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ڈبلیو ایم آئی کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام آباد شہر کی سالانہ بارش کا ایک چوتھائی حصہ بھی اسلام آباد میں زیر زمین پانی کی کمی کو مستحکم کرنے کے لیے کافی ہوگا۔آئی ڈبلیو ایم آئی کے اہلکار نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی نے عوامی پالیسی کو بھی متاثر کیا ہے۔ سی ڈی اے نے اپنے ضمنی قوانین میں زیر زمین پانی کی دستیابی کے جائزوں کو شامل کیا ہے اور نئی ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری سے پہلے انہیں لازمی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ نے پاکستان انجینئرنگ کونسل ، پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر گرین بلڈنگ کوڈز کی ترقی میں بھی تعاون کیا جس کے لیے نئی عمارتوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر محسن حفیظ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی کابینہ نے 30 جولائی 2025 کو گرین بلڈنگ کوڈ آف پاکستان اور رین واٹر ہارویسٹنگ پروویژنز کے بلڈنگ کوڈ کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹ کی لاگت صرف 15 ہزار ڈالر ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نسبتاً چھوٹی سرمایہ کاری سے ماحولیاتی اور کمیونٹی کو خاطر خواہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تحقیق کے دوران ایسے شواہد تیار کرتے ہیں جو عملی، موسمیاتی لچکدار حل کے ذریعے پالیسی بنانے اور لوگوں کے روزگار کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں