سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس فیصلے سے تصدیق ہوگئی کہ سانحہ حادثہ نہیں تھا بلکہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ، گھناو¿نے جرم کے ماسٹر مائنڈز کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے، وفاقی وزیر بحری امورعلی زیدی

اسلام آباد ۔ 22 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر بحری امورعلی زیدی نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائے جانے والوں کو سزا کے فیصلہ پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ بلدیہ فیکٹری میں حادثہ نہیں ہوا بلکہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی جو مجرمانہ امر اور دہشت گردی تھی،اسے حادثہ قرار دینے کا دعوی پی ایس پی کے …

اسلام آباد ۔ 22 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر بحری امورعلی زیدی نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائے جانے والوں کو سزا کے فیصلہ پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ بلدیہ فیکٹری میں حادثہ نہیں ہوا بلکہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی جو مجرمانہ امر اور دہشت گردی تھی،اسے حادثہ قرار دینے کا دعوی پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال سمیت بہت سے لوگوں نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ آج کے بلدیہ فیکٹری کے حوالے سے جو فیصلہ آیا اس سے کم از کم 8 سال تک انتظار کرنے والے متاثرین کے اہلخانہ نے کچھ سکھ کا سانس لیا۔ فیصلے نے جے آئی ٹی رپورٹ کے اس نتیجے کو بھی ثابت کیا ہے کہ سندھ پولیس کی ابتدائی تفتیش داغدار تھی جس سے حکومت سندھ کے تحت پولیس کی قابلیت پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ معمول کے مطابق سہولت کار ، منصوبہ ساز سزا سے بچ گئے جبکہ ان کے حکم پر یہ جرائم کرنے والے چھوٹے آدمی کو سزا سنائی گئی۔ اس فیصلے سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور پیروکاروں کے لئے بھی ایک سبق ہے۔ سیاستدانوں کی حیثیت سے مجرموں اور بدعنوان بدمعاشوں کے کہنے پر مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہ ہوں کیونکہ صرف آپ آخر میں قیمت ادا کرتے ہیں اور طاقتور آزاد چلیں گے۔ میں پراسیکیوٹرز سے گزارش کرتا ہوں کہ اس گھناو¿نے جرم کے ماسٹر مائنڈز کے خلاف اپیل کریں اور انہیں بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

مزید خبریں