اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک بدستور ناقابلِ برداشت قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور مصنوعی ذہانت سب کے لیے قابلِ رسائی بنانے کی ضرورت ہے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

مزید خبریں
بشکیک۔2ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک بدستور ناقابلِ برداشت قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق انہوں نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات لانی ہوں گی تاکہ انصاف اور مساوات کو فروغ دیا جا سکے اور ان قرضوں کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے جو بہت سے ترقی پذیر ممالک پر بوجھ بن رہے ( strangling ) ہیں۔ انہوں نے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں پر بھی زور دیا کہ وہ ممالک کی ترقی کی کوششوں میں مدد کے لیے زیادہ بڑے، بہتر اور زیادہ جرات مندانہ کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور بریٹن ووڈز نظام سمیت کثیرالجہتی اداروں میں بھی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ انہیں آج کی عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہو، جس سے ایک منصفانہ عالمی نظام تشکیل دیا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا فائدہ صرف چند ممالک تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے تمام ممالک کے لیے کام کرنا چاہیے (artificial intelligence must work for all countries)۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مقصد کے لیے موثر حفاظتی ضوابط (Guardrails) اور زیادہ جامع طرزِ حکمرانی کے طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔







