سانحہ 6 نومبر 1947 جنوبی ایشیا کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی تھی،سینیٹراعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سانحہ 6 نومبر 1947 جنوبی ایشیا کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی تھی،ان عظیم شہدا کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی کو خاموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انصاف کو ہمیشہ کیلئے جھٹلایا جا سکتا ہے۔ یوم شہدائے جموں کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سانحہ 6 نومبر 1947 جنوبی ایشیا کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی تھی،ان عظیم شہدا کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی کو خاموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انصاف کو ہمیشہ کیلئے جھٹلایا جا سکتا ہے۔ یوم شہدائے جموں کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آج ہم یوم شہدائے جموں منا رہے ہیں، ہم ان عظیم شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہیں 1947 میں ڈوگرہ فورسز نے بے رحمی سے قتل کیا تھا، یہ سانحہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی تھی اور مورخین نے اسے بیسویں صدی کے سیاہ ترین بابوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا 9/11 جیسے واقعات اور نازی جرمنی کے مظالم کو یاد رکھتی ہے لیکن پھر بھی جموں میں 250,000 سے زائد بے گناہ مسلمانوں کے اجتماعی قتل کو نظر انداز کر رہی ہے، جن کا واحد جرم ان کا ایمان اور آزادی کی خواہش تھی،یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ریاستی سرپرستی میں چلائی گئی نسل کشی کی بدترین مہم تھی، جسے جان بوجھ کر جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پانچ لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، ان کی شناخت اور خود ارادیت کیلئے ان کی جدوجہد کو خاموش کرنے کی منظم کوشش میں پوری برادریوں کا صفایا کر دیا گیا، ستر سال بعد بھی ناانصافی کی وہ داستان جاری ہے،2019 میں آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد بھارت نے کشمیریوں سے ان کی خصوصی حیثیت چھین لی ہے اور نئی دہلی سے براہ راست کنٹرول نافذ کر دیا ہے، اراضی اور جائیداد کے قوانین کو دوبارہ لکھا گیا، غیر مقامی آبادکاری کی اسکیمیں متعارف کروائی گئیں اور سری نگر 2035 جیسے ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے، ان سب کا مقصد مقبوضہ وادی کے مسلم اکثریتی آبادی کو تبدیل کرنا اور کشمیریوں کی آواز کو دبانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے ان کی منصفانہ اور جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے، جس کیلئے جموں کے شہدا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان شہدا کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی کو خاموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انصاف کو ہمیشہ کیلئے جھٹلایا جا سکتا ہے، یہ انصاف، امن اور آزادی کے اصولوں کو برقرار رکھنے اور ایک ایسے مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے ہمارے اجتماعی عزم کو مضبوط کرتا ہے جہاں جموں و کشمیر کے لوگ خوف اور جبر سے آزاد زندگی گزاریں،پاکستان کل، آج اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔