کراچی۔22 مئی(اے پی پی)پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے)کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر (سی ای او)ائر مارشل ارشد ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ تکنیکی طور پر محفوظ تھا، جب تک رپورٹ نہیں آتی حادثہ کی وجوہات کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ، طیارہ کے اڑان بھرنے سے پہلے قواعد و ضوابط پر عمل ہوا ہے اور اس کے دستاویزات موجودہیں ، …
سربراہ پی آئی اے ائر مارشل ارشد ملک کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
کراچی۔22 مئی(اے پی پی)پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے)کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر (سی ای او)ائر مارشل ارشد ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ تکنیکی طور پر محفوظ تھا، جب تک رپورٹ نہیں آتی حادثہ کی وجوہات کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ، طیارہ کے اڑان بھرنے سے پہلے قواعد و ضوابط پر عمل ہوا ہے اور اس کے دستاویزات موجودہیں ، جب تک جہاز کو کلیئرنس نہیں ملتی جہاز اڑان نہیں بھرتا اور بعض اوقات فلائیٹس میں تاخیر کی وجہ اڑان بھرنے کی کلیئرنس نہ ملنا ہوتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے طیارہ حادثہ کے بعد جمعہ کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثہ کے شہداءکے گھروں میں جو بحران ہے ، ہمیں اس کا احساس ہے ، ہم شہداءکے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ائرپورٹ ہوٹلز خالی کرا دئیے ہیں اور پی آئی اے شہداءکے لواحقین کو ان ہوٹلز میں قیام کروائے گی ۔انہوں نے کہا کہ شہدا ءکے لواحقین سے رابطہ کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ یہ قومی سانحہ ہے ہم سب نے ملکر کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقومی اصول کے مطابق شفاف انکوائری ہوگی جس میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کا کوئی کردار نہیں ہوگا اور حقائق اپ کے سامنے پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا طیارہ حادثہ کے حوالے سے خود ساختہ ماہرین سے خود کو دور رکھے، جب تک انکوائری نہیں ہوگی حادثہ کی وجوہات کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن کو مکمل ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا، ایک تنگ اسٹریٹ میں حادثہ ہوا ہے، گھروں کو نقصان بھی پہنچا ہے ۔ارشد ملک نے کہا کہ ہم کسی کی جان کے ساتھ نہیں کھیل سکتے، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ آزاد باڈی ہے اور سول ایوی ایشن سے تنخواہ نہیں لیتی، اس طیارے کی آخری پرواز کل ہوئی تھی جو اطمینان بخش تھی۔ائیر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ اب تک میرے پاس صدر بنک آف پنجاب کے زندہ بچ جانے کی مصدقہ معلومات ہیں ، ہسپتالوں میں ہمارے لوگ موجود ہیں اور وہ ڈیٹا جمع کررہے ہیں ۔








