سرحد پار دہشت گردی کے بھارتی الزامات غلط،بھارت مظلوم بننے اور الزام تراشی کے پرانے بیانیے کا سہارا لینے کے بجائے اپنا رویہ تبدیل کرے،پاکستان

اقوام متحدہ۔23جولائی (اے پی پی):پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مظلوم بننے اور الزام تراشی کے پرانے بیانیے کا سہارا لینے کے بجائے اپنا رویہ تبدیل کرے۔یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کثیرالجہتی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے ذریعے عالمی امن و …

اقوام متحدہ۔23جولائی (اے پی پی):پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مظلوم بننے اور الزام تراشی کے پرانے بیانیے کا سہارا لینے کے بجائے اپنا رویہ تبدیل کرے۔یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کثیرالجہتی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے ذریعے عالمی امن و سلامتی کا فروغ کے موضوع پر ہونے والے مباحثے کے دوران بھارتی سفیر پرواتھنی ہریش کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔انہوں نے 15 رکنی سلامتی کونسل کو بتایا کہ یہ بھارت ہے جو پاکستان اور دیگر ممالک میں فعال طور دہشت گردی کی سرپرستی، معاونت اور پشت پناہی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا مظلوم بننے اور دوسروں پر الزام تراشی کا پرانا بیانیہ اب غیر مؤثر ہو چکا اسے چاہیے کہ وہ خود احتسابی کرے، اپنے طرز عمل میں سنجیدہ تبدیلی لائے اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے ۔ عثمان جدون نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ بھارتی سفیر نے بالخصوص اس دن پاکستان کو نشانہ بنایا جب سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد، تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قانون کے احترام اور سلامتی کونسل کی قرارداد پر موثر عمل درآمد کی ضرورت کی توثیق کی۔

پاکستانی مندوب نے زور دے کر کہا کہ سب سے پہلے یہ بات کہ بھارت جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے پر غیر قانونی قبضہ کر رہا ہے،اقوام متحدہ کے چارٹر اور تنازعات کے پرامن حل کے اصول کی پاسداری کے دعوے کے باوجود بھارت جموں و کشمیر کے تنازعے پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور ان پر عمل درآمد سے انکار کر رہا ہے، اس طرح کشمیری عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے استعمال سے محروم کر دیا گیا ہے۔پاکستانی مندوب نے نشاندہی کی کہ بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جو جموں و کشمیر کے مقبوضہ علاقے سے باہر تک پھیلی ہوئی ہیں اور اقلیتوں کے ساتھ اس کے ہولناک سلوک کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے ۔ عثمان جدون نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے 7 سے 10 مئی کے درمیان پاکستان کے خلاف جارحیت کی جس میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں اپنے دفاع کا حق استعمال کیا جس میں6بھارتی طیارے مار گرائے ۔

انہوں نے مندوبین کو بتایا کہ پاکستان کےذمہ دارانہ رویے اور امریکا کی سہولت کاری کی وجہ سے کشیدگی کا خاتمہ ہوا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ بھارت، جو خود جموں و کشمیر کے تنازعے کو سلامتی کونسل میں لے کر آیا اب انہی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے سے انکاری ہے۔

مزید خبریں