میلان۔3فروری (اے پی پی):اٹلی کے شہر میلان کورٹینا میں سرمائی اولمپکس 2026کا جمعے کو شاندار افتتاحی تقریب کے ساتھ آغاز ہو رہا ہے ، جن کے ذریعے سرمائی کھیل 20 برس بعد ایک بار پھر یورپی الپس کے روایتی مرکز میں واپس آ رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق منتظمین کو امید ہے کہ امریکی سکیئنگ لیجنڈ لنڈزی وون مکمل فٹ ہو کر مقابلوں میں شرکت کر سکیں گی۔یہ …
سرمائی اولمپکس 2026کا آغاز، خوبصورت اطالوی لینڈ سکیپ اور عالمی سیاست آمنے سامنے

مزید خبریں
میلان۔3فروری (اے پی پی):اٹلی کے شہر میلان کورٹینا میں سرمائی اولمپکس 2026کا جمعے کو شاندار افتتاحی تقریب کے ساتھ آغاز ہو رہا ہے ، جن کے ذریعے سرمائی کھیل 20 برس بعد ایک بار پھر یورپی الپس کے روایتی مرکز میں واپس آ رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق منتظمین کو امید ہے کہ امریکی سکیئنگ لیجنڈ لنڈزی وون مکمل فٹ ہو کر مقابلوں میں شرکت کر سکیں گی۔یہ اولمپکس شمالی اٹلی میں تقریباً 350 کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلے مختلف مقامات پر منعقد ہوں گے، جن میں کورٹینا، میلان اور الپس کے دیگر کلسٹر شامل ہیں۔ منتظمین کے مطابق زیادہ تر موجودہ سٹیڈیمز اور سہولیات کے استعمال سے ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دیا گیا ہے
، اگرچہ اس وسیع جغرافیائی پھیلاؤ نے انتظامی پیچیدگیاں بھی بڑھا دی ہیں۔یہ کھیل ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب عالمی سطح پر سیاسی کشیدگیاں موجود ہیں۔ اٹلی نے واضح کیا ہے کہ سکیورٹی انتظامات مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں رہیں گے، حالانکہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای ) کے ایک شعبے کی مشاورتی موجودگی پر میزبان ملک میں تنقید سامنے آئی ہے۔یوکرین پر حملے کے باعث روسی ٹیم کو سخت پابندیوں کا سامنا ہے اور صرف 13 روسی کھلاڑی غیر جانبدار حیثیت میں مقابلوں میں شریک ہوں گے۔
کھیلوں کا باقاعدہ آغاز بدھ سے ہوگا، جبکہ جمعے کو میلان کے سان سیرو سٹیڈیم میں افتتاحی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں امریکی گلوکارہ ماریہ کیری اور اطالوی اوپیرا سٹار اینڈریا بوچیلی پرفارم کریں گے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی شرکت بھی متوقع ہے۔ کھیلوں کے آغاز کے ساتھ ہی سب کی نظریں 41 سالہ لنڈزی وون پر ہوں گی، جو حالیہ ورلڈ کپ ریس میں گرنے کے بعد گھٹنے کی انجری سے صحتیاب ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
وون کا کہنا ہے کہ ان کا ’’اولمپک خواب ابھی ختم نہیں ہوا‘‘ اور وہ اس کے حوالے سے گیمز سے قبل تازہ صورتحال بتائیں گی۔اس کے علاوہ مردوں کے آئس ہاکی مقابلے بھی خاص توجہ کا مرکز ہوں گے، جہاں امریکی اور کینیڈین نیشنل ہاکی لیگ (این ایچ ایل)کے سٹار کھلاڑی 2014 کے بعد پہلی بار اولمپکس میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔








