وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری جامعات میں بھرتیوں کے ہر تنازعہ کو آئینی مقدمہ نہیں بنایا جا سکتا اور ناکام امیدوار محض شفافیت کے فقدان یا قواعد کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر آئینی دائرہ اختیار استعمال کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔
سرکاری جامعات میں بھرتیوں میں عدالتیں اپیلٹ فورم نہیں بن سکتیں، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری جامعات میں بھرتیوں کے ہر تنازعہ کو آئینی مقدمہ نہیں بنایا جا سکتا اور ناکام امیدوار محض شفافیت کے فقدان یا قواعد کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر آئینی دائرہ اختیار استعمال کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔
رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے کراچی یونیورسٹی میں پروفیسرز کی بھرتیوں سے متعلق کیس میں جامعہ کراچی کی سلیکشن کمیٹی اور سنڈیکیٹ کے فیصلے بحال کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئینی دائرہ اختیار صرف اسی صورت استعمال کیا جا سکتا ہے جب بھرتیوں کے عمل کی قانونی حیثیت متاثر ہوئی ہو۔ ہر معاملے میں عدالتی جائزے کے لیے رجوع کرنے سے عدالتیں تقرریوں کے لیے اپیلٹ فورم بن جائیں گی جو آئین کے آرٹیکل 199 کے منافی ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ آئینی عدالتوں کا تعلیمی اداروں کے لیے اپیلٹ فورم بننا جامعات کی خودمختاری سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سرکاری جامعات سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق منصفانہ انداز میں بھرتیوں کا عمل مکمل کریں گی۔کیس کے مطابق ڈاکٹر فیروز عالم جعفری نے کراچی یونیورسٹی میں پروفیسرز کی بھرتیوں کے عمل کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے یہ قرار دیتے ہوئے بھرتیوں کا عمل کالعدم قرار دیا تھا کہ سلیکشن کمیٹی کی ایک رکن خود بھی امیدوار تھیں تاہم وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سلیکشن کمیٹی اور سنڈیکیٹ کے فیصلے بحال کر دیئے۔








