سرکاری قرضوں کے مسائل کے موثر حل کے لیے مربوط اور شفاف اصلاحاتی فریم ورک اپنانا ہوگا، قائمہ کمیٹی برائے خزانہ

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے کہاہے کہ پاکستان کوسرکاری قرضوں کے مسائل کے موثر حل کے لیے مربوط اور شفاف اصلاحاتی فریم ورک اپنانا ہوگا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس جمعرات کویہاں چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ جو ذیلی کمیٹی کی کنوینربھی ہیں، نے پارلیمانی بجٹ آفس …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے کہاہے کہ پاکستان کوسرکاری قرضوں کے مسائل کے موثر حل کے لیے مربوط اور شفاف اصلاحاتی فریم ورک اپنانا ہوگا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس جمعرات کویہاں چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ جو ذیلی کمیٹی کی کنوینربھی ہیں، نے پارلیمانی بجٹ آفس بل 2025 پر ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا اور رپورٹ کو باقاعدہ طور پر منظور کرلیا تاہم مزیدمشاورت کیلئے رپورٹ پر تفصیلی غور و خوض اور حتمی فیصلہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔اجلاس کے دوران وزارت صنعت و پیداوار کے سیکرٹری نے کمیٹی کو نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025–2030 پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے پالیسی کی اہم خصوصیات، مقاصد اور طریقہ کار کے فریم ورک پرروشنی ڈالی اور کمیٹی کو پالیسی کے نفاذ کے لائحہ عمل، مینوفیکچررز کے لیے مراعات اور ملک میں الیکٹرک موبلٹی کے فروغ کے مجموعی روڈ میپ سے آگاہ کیا۔

چیئرمین اور اراکین کمیٹی نے پالیسی اقدام کو سراہتے ہوئے اس کے بعض پہلوئوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اراکین کا کہنا تھا کہ پالیسی صارفین کے بجائے مینوفیکچررز کے حق میں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ کمیٹی نے مزید نشاندہی کی کہ سبسڈی کے طریقہ کار، گاڑیوں کی رجسٹریشن کے عمل اور بینک فنانسنگ انتظامات میں نمایاں عملی خامیاں موجود ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ان امور پر دوبارہ غور کیا جائے تاکہ شفافیت، کارکردگی اور صارفین کے لیے وسیع رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس کے دوران بعض آزاد ماہرین نے کمیٹی کو پاکستان کے سرکاری قرض کے بارے میں بریفنگ دی جس میں موجودہ صورتحال، بنیادی چیلنجز اور مالی و مالیاتی اصلاحات کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔ ماہرین نے قرضوں کی پائیداری، ادائیگی کی ذمہ داریوں اور ڈھانچہ جاتی مسائل کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا جو بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ چیئرمین اور اراکین کمیٹی نے موضوع میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور قرضوں کے انتظام، بیرونی قرضوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے کردار اور طویل مدتی مالی استحکام کے لیے ممکنہ پالیسی اقدامات سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔

کمیٹی نے ماہرین کی فراہم کردہ قیمتی آراء کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنے عوامی قرضوں کے مسائل کے موثر حل کے لیے مربوط اور شفاف اصلاحاتی فریم ورک اپنانا ہوگا۔ اجلاس میں پچھلے اجلاس کے منٹس کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی رانا ارادت شریف خان، سید سمیع الحسن گیلانی، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، زیب جعفر، حنا ربانی کھر، مرزا اختیار بیگ، ارشد عبداللہ ووہرا، محمد جاوید حنیف خان شاہدہ بیگم، سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت خزانہ و محصولات کے افسران نے شرکت کی۔