سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ دفاعی معاہدہ علاقائی استحکام و معاشی تعاون کی نئی راہ کھولے گا،سردار طاہر محمود

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین ہونے والے اہم دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ علاقائی استحکام، باہمی اعتماد اور خطے میں وسیع تر معاشی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا

اسلام آباد۔8اگست (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین ہونے والے اہم دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ علاقائی استحکام، باہمی اعتماد اور خطے میں وسیع تر معاشی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ ہفتہ کے روز تاجروں اور کاروباری رہنماؤں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان ابھرتے ہوئے تزویراتی تعاون کو معاشی انضمام، نجی شعبے کے مضبوط روابط اور باہمی مفاد پر مبنی سرمایہ کاری شراکت داری میں بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امن و سلامتی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ کاروبار، سرمایہ کاری اور جدت اس بنیاد پر خوشحالی کی عمارت تعمیر کرتے ہیں۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ آئی سی سی آئی پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو بھی ٹھوس معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسی مقصد کے تحت پاکستان-ترکیہ بزنس فسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیا جائے گا، جو دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے ایک مستقل پلیٹ فارم کا کردار ادا کرے گا۔ یہ ڈیسک کاروباری معلومات کے تبادلے، سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کو باہمی طور پر منسلک کرنے، بی ٹو بی میچ میکنگ، مشترکہ منصوبوں اور دیگر تجارتی مواقع تک رسائی اور ادارہ جاتی روابط کو آسان بنانے میں معاونت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی اپنی اقتصادی سفارت کاری کو اگلے مرحلے میں لے جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں13 اگست 2026 کو ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کی قیادت کرتے ہوئے ترکیہ جا رہا ہوں ،وفد میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز کاروباری رہنما اور صنعتکار شامل ہوں گے۔ دورے کے دوران بزنس اپرچیونٹی کانفرنس، خصوصی بی ٹو بی میچ میکنگ اجلاس اور ایک پروقار گلوبل ایکسیلنس ایوارڈ تقریب منعقد کی جائے گی، جس کا مقصد پاکستانی کاروباری اداروں کو ترک ہم منصبوں کے ساتھ براہ راست شراکت داری کے مواقع فراہم کرنا اور پاکستان کی سرمایہ کاری و کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ آئی سی سی آئی کا یہ اقدام محض دورہ نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی تعاون اور مارکیٹ رسائی کے ٹھوس مواقع پیدا کرنے کی ایک جامع کوشش ہے۔ دونوں ممالک جن شعبوں میں اپنی اپنی صلاحیتوں اور تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، وہاں نجی شعبے کے درمیان طویل المدتی شراکت داری قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی قیادت کے مشترکہ اقتصادی وژن کے تحت باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کے حصول میں مضبوط نجی شعبے کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔

مزید خبریں