سعودی عرب ،اسلام کے ابتدائی دور کی مسجد جواثا کی تعمیرِ نو مکمل

ریاض ۔17مارچ (اے پی پی):سعودی عرب کی تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے ’پرنس محمد بن سلمان پراجیکٹ‘کے دوسرے مرحلے میں الھفوف شہر کی قدیم ترین ’مسجد جواثا، کی تعمیرِ نو کا کام مکمل کرلیا گیا۔ایس پی اے کے مطابق مسجد جواثا کا اسلامی تاریخ میں انتہائی اہم مقام ہے، مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے بعد یہ مدینے سے باہر دوسری جامع …

ریاض ۔17مارچ (اے پی پی):سعودی عرب کی تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے ’پرنس محمد بن سلمان پراجیکٹ‘کے دوسرے مرحلے میں الھفوف شہر کی قدیم ترین ’مسجد جواثا، کی تعمیرِ نو کا کام مکمل کرلیا گیا۔ایس پی اے کے مطابق مسجد جواثا کا اسلامی تاریخ میں انتہائی اہم مقام ہے، مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے بعد یہ مدینے سے باہر دوسری جامع مسجد تھی جس میں پہلی مرتبہ نماز جمعہ ادا کی گئی ۔

جزیرہ نما عرب میں اس مسجد کی تاریخی اہمیت ہے۔جواثا کا علاقہ اہم تاریخی مقام کی حیثیت کا حامل ہے، ریتیلے ٹیلوں میں گھرے اس علاقے میں کثرت سے آثار قدیمہ بھی پائے جاتے ہیں۔مشرقی ریجن میں دریافت ہونے والے آثار قدیمہ میں ابتدائی دور کے انسانی آبادی کے آثار بھی ملے ہیں، جن میں پتھر کے دور کے چھوٹے اور درمیانے سائز کے آلات شامل ہیں جن کے بارے میں تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یہ 7 سے 8 ہزار سال قبل از مسیح کے ہوسکتے ہیں۔

عہدِ رفتہ میں جواثا کو علاقے میں اہم مقام حاصل تھا یہاں تجارتی قافلوں کی آمد ورفت ہوتی، کھجوروں کے علاوہ زرعی اجناس اور مختلف اقسام کی خوشبویات وغیرہ شامل تھیں۔مسجد جواثا کو مختلف ادوار تعمیر کیا جاتا رہا، فلاحی تنظیم ہیریٹج فاونڈیشن کے زیرانتظام اس مسجد میں ترقیاتی امور انجام دیے گئے۔بعد ازاں رائل کمیشن جبیل اینڈ ینبع کی جانب سے علاقے کی دیگر مساجد کے ساتھ اس مسجد میں بھی ترقیاتی کام کیے، اب اسے پرنس محمد بن سلمان پراجیکٹ کے تحت ازسرنو تعمیر کیا گیا ہے ،تاہم مسجد کی قدیم شناخت کو برقرار رکھا گیا ہے۔

مزید خبریں