ریاض۔4جنوری (اے پی پی):سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزیوں پر مزید 18 ہزار 805 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 12 ہزار 238 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔ اردو نیوز نے ایس پی اے کے حوالے سے بتایا کہ 25 سے 31 دسمبر کے درمیان مجموعی طور پر 11 ہزار 752 افراد کو اقامہ قانون، 4 …
سعودی عرب میں اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزی پر مزید 18 ہزار 805 افراد گرفتار، 12 ہزار 238 غیرقانونی تارکین بے دخل

مزید خبریں
ریاض۔4جنوری (اے پی پی):سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزیوں پر مزید 18 ہزار 805 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 12 ہزار 238 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔ اردو نیوز نے ایس پی اے کے حوالے سے بتایا کہ 25 سے 31 دسمبر کے درمیان مجموعی طور پر 11 ہزار 752 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار239 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزار 814 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔
غیرقانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار739 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 62 فیصد ایتھوپین، 37 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں 46 ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو سرحد پار کرکے سعودی عرب سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 14 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








