سعودی موجد نے مڈل ایسٹ انٹرنیشنل اِنوینش فیئر میں دو گولڈ میڈل جیت لیے

ریاض۔15فروری (اے پی پی):سعودی موجد دعا نزار خضری نے مڈل ایسٹ میں ہونے والے سولہویں عالمی انوینش فیئر میں دو گولڈ میڈل حاصل کیے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ انٹرنیشنل فیئر 8 سے 11 فرری تک کویت میں منعقد ہوا جس میں دعا نزار خضری نے طلائی تمغے حاصل کیے۔دعا نزار خضری نے ایک ایسا آلہ ڈیزائن کیا ہے جو میٹریل کو فلٹر کر سکتا ہے اور استعمال شدہ …

ریاض۔15فروری (اے پی پی):سعودی موجد دعا نزار خضری نے مڈل ایسٹ میں ہونے والے سولہویں عالمی انوینش فیئر میں دو گولڈ میڈل حاصل کیے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ انٹرنیشنل فیئر 8 سے 11 فرری تک کویت میں منعقد ہوا جس میں دعا نزار خضری نے طلائی تمغے حاصل کیے۔دعا نزار خضری نے ایک ایسا آلہ ڈیزائن کیا ہے جو میٹریل کو فلٹر کر سکتا ہے اور استعمال شدہ سیال مواد کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا سکتا ہے۔یہ ایجاد سیال مواد کی صفائی اور اسے پھر سے استعمال کے قابل بنانے میں بہتری لانے میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی میں یہ امکان بھی مضمر ہے کہ اسےماحولیاتی تحفظ، صنعتی پروسیسنگ اور پانی کے بچاؤ کے لیے خاص طور پر ان علاقوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں وسائل کا پائیداری کے ساتھ بندوبست بہت زیادہ ضروری ہے۔دعا نزار خضری موھبہ ایلو منائی پروگرام کا حصہ رہی ہیں اور انہوں نے’’کنگ عبدالعزیز اینڈ ہز کمپینیئنز فاؤنڈیشن فارگفٹِڈنیس اینڈ کِری ایٹیوٹی‘‘ کی نمائندگی کی ہے۔ فاؤنڈیشن نے فیئر میں تیسری مرتبہ شرکت کی۔

پہلا گولڈ میڈل فیئر کے منتظمین سے ملا۔ انھیں’انٹرنیشنل فیڈریشن آف اِنوینٹرز ایسوسی ایسی ایشنز‘ کی جانب سے بھی ’آئی ایف آئی اے بیسٹ اِنوینشن‘ ایوارڈ سے نوازا گیا جہاں ان کے ایجاد کردہ آلے کو نمائش میں سب سے بہترین قرار دیا گیا۔’’آئی آئی ایف ایم ای‘‘ کا آغاز 2007 میں ہوا تھا اور اس کا انتظام کویت کے سائنس کلب ہی کے پاس ہے۔اس نمائش کو پورے ریجن میں چیزوں کے ایجاد کے حوالے سے سب سے بڑی خصوصی نمائشوں میں سے ایک کا درجہ حاصل ہے اور یہ ایجاد کندگان کے لیے اپنے کام کو بین الاقوامی طور پیش کرنے کا ایک بڑا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔