سماجی شعبہ کی ترقی کیلئے سرکاری اورنجی شعبہ کومل کرآگے بڑھنا ہوگا،وسائل اور اختیارات کو لوکلائر کرنے سے نچلی سطح پربہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں، وزیرمملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کا تقریب سے خطاب

وزیرمملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ سماجی شعبہ کی ترقی کیلئے سرکاری اور نجی شعبہ کو مل کرآگے بڑھنا ہو گا، صوبائی سطح پر وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی نہیں ہو سکی ہے، این ایف سی کے ساتھ ساتھ صوبائی مالیاتی کمیشنز کا انعقادبھی ضروری ہے، وسائل اور اختیارات کو لوکلائر کرنے سے نچلی سطح پر بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):وزیرمملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ سماجی شعبہ کی ترقی کیلئے سرکاری اور نجی شعبہ کو مل کرآگے بڑھنا ہو گا، صوبائی سطح پر وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی نہیں ہو سکی ہے، این ایف سی کے ساتھ ساتھ صوبائی مالیاتی کمیشنز کا انعقادبھی ضروری ہے، وسائل اور اختیارات کو لوکلائر کرنے سے نچلی سطح پر بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

پیر کو یہاں ایس ڈی پی آئی، یونیسیف اور جی آئی زی کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے وزیرمملکت نے کہا کہ سماجی شعبہ کی ترقی کیلئے مربوط مالیاتی نظام ناگزیر ہیں،پاکستان کے مستقبل کی ترقی سماجی شعبہ میں سرمایہ کاری سے وابستہ ہے،سماجی شعبہ کی ترقی کیلئے سرکاری اور نجی شعبہ کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا،ملک میں سماجی شعبہ کی فنانسنگ کیلئے جدید اور پائیدارماڈلز کی ضرورت ہے،ترقی کے ثمرات معاشرے کے معاشی طورپرکمزورطبقات تک پہنچاناحکومت کی ذمہ داری ہے ۔نئے قومی مالیاتی کمیشن کے حوالہ سے بات چیت کاسلسلہ جاری ہے،این ایف سی میں وفاقی یونٹوں کے جتنے نمائندے ہیں انشاء اللہ وہ کھلے اذہان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ مستقبل کے حوالہ سے بہتر انتظامات پر متفق ہو ں گے ۔

وزیرمملکت نے کہا کہ صوبوں نے محصولات میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے ہیں، اسی طرح وفاقی سطح پر ایف بی آر کی جانب سے بھی محصولات میں اضافہ اور ٹیکس کی بنیادمیں وسعت کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری ہے،نان فائلرز کوٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے،دکانداروں کوٹیکس کے نظام میں شامل کرنے کیلئے سکیم لائی جا رہی ہے، اس وقت 35لاکھ کے قریب دکاندارٹیکس نیٹ سے باہرہیں،تاجروں اور دکانداروں کے ساتھ بیٹھ کر اور ان کی مشاورت سے عملی طور پرقابل نفاذ سکیم متعارف کرائی جارہی ہے،اس کے نتیجہ میں ری ٹیلرز ٹیکس نیٹ میں شامل ہو ں گے۔وزیرمملکت نے کہا کہ وہ لوگ جو فائلرزہیں مگراپنے آمدنی کے لحاظ سے ٹیکس نہیں دے رہے ان کیلئے بھی شفاف اور منصفانہ اصلاحات کی گئی ہے اور انفورسمنٹ کیلئے فنڈز بھی مختص کئے گئے ہیں۔

وزیرمملکت نے کہا کہ وفاق اور صوبائی سطح پر ترقی کیلئے جتنے فنڈزخرچ کئے جارہے ہیں ان میں مربوط رابطہ کاری اور الائنمنٹ کوبھی دیکھنا ضروری ہے،مثال کے طورپرزرعی برآمدات میں اضافہ کے حوالہ سے اگروفاقی وژن ہو گا تو اس میں صوبائی سطح پر فنڈز کی درست اور مناسب تخصیص بھی ضروری ہو گی۔گزشتہ سال وفاق کے سالانہ ترقیاتی پر وگرام کاحجم ایک ٹریلین روپے جبکہ صوبوں کاتین ٹریلین روپے کے قریب تھا۔

وزیرمملکت نے کہا کہ صوبائی سطح پر وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی نہیں ہو سکی ہے اور اس کیلئے این ایف سی کے ساتھ ساتھ صوبائی مالیاتی کمیشنز انعقادبھی ضروری ہے جس طرح کافارمولا وفاق اور صوبوں کے درمیان ہے، اس طرح کافارمولا صوبوں اور اضلاع کے درمیان بھی ہو سکتاہے، یہ ایک ادھوراکام ہے جسے مکمل کرناضروری ہے۔وزیرمملکت نے کہا کہ وسائل اور اتھارٹی کو لوکلائر کرنے سے نچلی سطح پر بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔اس سے مقامی سطح پر محصولات جمع کرنے میں بھی مدد ملے گی، اگرہم وسائل اور اختیارات کو لوکلائز کریں گے تواس سے ہم بہترنتائج حاصل کریں گے۔