اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرسرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ اور معاشی استحکام کی ضمانت ہیں، مسلح افواج کی قربانیاں پاکستان کی خودمختاری اور بقاء کی بنیاد ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں اوورسیز پاکستانیز گروپ اور پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے زیر اہتمام شہدائے پاکستان کی تکریم، مسلح افواج سے اظہار یکجہتی اور …
سمندر پار پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ اور معاشی استحکام کی ضمانت ہیں، مسلح افواج کی قربانیاں پاکستان کی خودمختاری اور بقاء کی بنیاد ہیں، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا خصوصی سیمینارسے خطاب
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرسرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ اور معاشی استحکام کی ضمانت ہیں، مسلح افواج کی قربانیاں پاکستان کی خودمختاری اور بقاء کی بنیاد ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں اوورسیز پاکستانیز گروپ اور پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے زیر اہتمام شہدائے پاکستان کی تکریم، مسلح افواج سے اظہار یکجہتی اور قائد اعظم کے یوم ولادت کی مناسبت سے منعقدہ ایک خصوصی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبد القیوم ،اوورسیز پاکستان گروپ کے سربراہ بیرسٹر شہزادہ حیات،سابق ایئر چیف مارشل سہیل امان مہمان اعزاز تھے۔
تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈاکٹر اظہر کیانی، وائس ایڈمرل (ر) احمد سعید، سابق نگران وزیر داخلہ میجر (ر) ملک حبیب ، بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون اور کموڈور (ر) ارشد محمود سمیت دیگر اعلیٰ ریٹائرڈ افسران بھی موجود تھے۔ اس تقریب کا مقصد شہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنا، مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے 149 ویں یوم ولادت کی مناسبت سے انہیں یاد کرنا تھا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور پاکستان کو ایک پرکشش سرمایہ کاری مرکز بنانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔
وفاقی وزیر قیصر شیخ نےکہا کہ یہ تقریب پاکستان کی قربانی، اتحاد جیسی بنیادی اقدار کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور ملکی خودمختاری و استحکام کے تحفظ میں مسلح افواج کے کردار کو سراہا۔ قائد اعظم کے نظم و ضبط، قانون کی حکمرانی اور قومی اتحاد کے نظریات کو ملکی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے معیشت اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں سمندر پار پاکستانیوں کے کردار پر زور دیا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے اوورسیز پاکستانیوں کو ملک کی معاشی شہ رگ اور سفیر قرار دیتے ہوئے بیرسٹر شہزادہ حیات کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو ہائبرڈ اور غیر روایتی خطرات کا سامنا ہے جن کا مقصد ریاستی اداروں کو نشانہ بنا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں پر حملہ دراصل پاکستان پر حملہ ہے جس کا مقصد ملک کو غیر مسلح اور کمزور کرنا ہے، لیکن دشمن اپنی ان سازشوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے تاریخ سے سبق سیکھنے اور قائد کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے متحد رہنے کی اپیل کی۔
سابق ایئر چیف مارشل سہیل امان نے اپنے خطاب میں جدید دفاع میں فضائی قوت اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگیں محض روایتی نہیں بلکہ سائبر، الیکٹرانک اور انفارمیشن وارفیئر کے ذریعے لڑی جائیں گی۔ انہوں نے تحقیق، آپریشنز اور اختراع کے باہمی ربط اور ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے دوسروں کی جنگوں سے دور رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔انٹرنیشنل یونٹی فورم کے صدر بیرسٹر شہزادہ حیات نے جدید جنگوں میں فضائی برتری کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ فضائی برتری کے بغیر مضبوط ترین زمینی فوج بھی غیر موثر ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی خودمختاری اور مسلح افواج کی حمایت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے سابق فوجیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاکھوں ریٹائرڈ فوجی آج بھی ملک کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب قومی سلامتی کا معاملہ ہو تو تمام پاکستانی ایک قوم بن جاتے ہیں۔
بیرسٹر حیات نے سینیٹر عبدالقیوم اور وفاقی وزیر قیصر شیخ کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر بالخصوص برطانیہ میں مسئلہ کشمیر اور پاکستان کا موقف موثر انداز میں پیش کرنے کی کوششوں کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا۔سیمینار کے اختتام پر مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی اور ایک مضبوط و خوشحال پاکستان کے لیے قائد اعظم کے وژن پر عمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔









