سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے کے عوام کے مسائل کو نظر انداز کیا جس سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے کے عوام کے مسائل کو نظر انداز کیا جس سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے، وفاقی حکومت تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سندھ کی عوام کے مسائل کے حل کیلئے مربوط کوششوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، اپوزیشن ایف …

اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے کے عوام کے مسائل کو نظر انداز کیا جس سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے، وفاقی حکومت تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سندھ کی عوام کے مسائل کے حل کیلئے مربوط کوششوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر قانون سازی میں رخنہ ڈال کر این آر او چاہتی ہے، ملک ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے کا متحمل نہیں ہو سکتا، عوام کے سامنے اپوزیشن کا کردار بے نقاب کرتے رہیں گے، ان کا مطمع نظر ملکی مفاد نہیں بلکہ ذاتی مفاد اور اپنے قائدین کا تحفظ ہے، درآمدی چینی اور گندم ملک میں پہنچ چکی ہے جس سے قیمتوں میں کمی آئے گی، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کا محور نادار اور غریب طبقات ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کراچی کے عوام جس کرب سے گزر رہے ہیں اس سے وفاقی حکومت لا علم نہیں ہے، حکومت سمیت پوری قوم کو کراچی کے عوام کے ساتھ پوری ہمدردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان روزانہ کی بنیاد پر کراچی کی صورتحال پر بریفنگ لے رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان رواں ہفتے کراچی کا دورہ کریں گے، وزیراعظم نے سندھ کی صوبائی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت ان عوامل کے ساتھ نہیں چل سکتے جنہوں نے ذاتی فائدے کے لیے قومی مفاد پر داو¿ لگایا، عوام نے 2018ءمیں پاکستان تحریک انصاف کو نئے پاکستان کا مینڈیٹ دیا ہے، پاکستان تحریک انصاف اس پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکتی جس میں ان کے قائدین کی کرپشن، لوٹ مار اور منی لانڈرنگ ہو یا ایسا پاکستان جس کی سیاست کو کاروبار بنا لیا جائے، ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا لیا جائے، عمران خان اس پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود اور ان کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھانا ہے، موجودہ حکومت مڈل طبقے کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قمر زمان کائرہ اس پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے بالعموم عوام اور بالخصوص سندھ کے عوام سے لوٹ مار کی۔ سندھ میں صحت، تعلیم سمیت تمام شعبوں کی صورتحال خراب ہے، ہسپتالوں میں ادویات اور ایمبولینسز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا کراچی کے حالات پر سیاست کرنا افسوسناک ہے، ناصر شاہ نے کہا کہ کراچی کے لئے 10 ارب ڈالر درکار ہیں، انہیں پیسے دینے کا مطلب تھا ان کی جیبوں میں چلے جاتے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر کر کراچی کو ملک کا اہم حصہ سمجھتے ہیں، جب بھی کوئی مسئلہ کھڑا ہوتا ہے تو پیپلز پارٹی کی قیادت منظر سے غائب ہو جاتی ہے۔ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف بل پر حکومت کو بلیک میل کر رہی تھی، وہ ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں این آر او لینا چاہتے تھے، دونوں جماعتیں کہتی ہیں کہ این آر او کون مانگ رہا ہے، ہم نے ٹوئیٹ کے ذریعے حقیقت عوام پر آشکار کر دی، این آر او یہی ہے کہ کرپشن کی تشریح ان کی مرضی کے مطابق ہو جس نے چوری کی ہو قانون اس کی مرضی کے مطابق بدلا جائے، عوام نے دیکھا کہ اپوزیشن کی کوشش تھی کہ کسی طرح این آر او مل جائے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ 5 سال کی چوری کا حساب نا لیا جائے، اپوزیشن مثبت پروگرامز اور تجاویز کی بجائے منفی سیاست کر رہی ہے۔ وہ ایک دوسرے کیخلاف بھی بدنیتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی ہر پالیسی میں غریب اور متوسط طبقے کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھا، پیپلز پارٹی نے سندھ میں 12 سال حکومت کی حالات پاکستانی عوام کے سامنے ہیں، پیپلزپارٹی نے جو کراچی میں خرچ کیا اس کا حساب عوام کے سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک کو مشکلات سے نکال رہے ہیں، اپوزیشن کا ایک ہی مقصد ہے حکومت ناکام ہو جائے، کوئی شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی اور مشکل وقت ہے، حکومت کی بنیادی پالیسیوں کا محور عوام ہیں، امید ہے کہ مشکلات سے جلد نکلیں گے، آگے بڑھیں گے، جلد آسانیاں پیدا ہوں گی معاشی اشاریے مثبت راہ پر گامزن ہیں اور اس کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے کرم اور حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کے باعث کورونا وباءکا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے، کورونا ابھی ختم نہیں ہوا، اس لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے، اس وباءکے دوبارہ زور پکڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی قیادت کے مقابلے میں موجودہ سیاسی قیادت عوام کے مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہے۔ موجودہ حکومت کی فیصلہ سازی کا محور عوام ہیں، وزیراعظم کا کوئی کاروبار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی گندم اور چینی ملک میں پہنچ چکی ہے جس سے قیمتوں میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں چلا جائے، اپوزیشن پاکستان کیخلاف ووٹ دینا چاہتی ہے، انہوں نے پہلے بھی پاکستان کیخلاف ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ ملکی مفاد میں فیصلہ کریں اور اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے سے ملک کو بھاری نقصان ہو گا۔ معیشت کو نقصان ہو گا، حکومت ملکی مفاد میں قانون سازی کر رہی ہے لیکن دوسری طرف اپوزیشن خاص طبقہ اور لیڈروں کو بچانے کیلئے اس کی مخالفت کررہی ہے، مشترکہ اجلاس میں ملکی مفاد میں فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم وفاق ان مسائل کے حل کیلئے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا، اس حوالے سے وزیراعظم کی جانب سے جاری کئے گئے تین نکات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ صوبائی حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے مربوط حکمت عملی سے آگے بڑھیں گے۔

مزید خبریں