سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کی سنیارٹی میں تبدیلی سے پہلے اسے مؤقف پیش کرنے کا منصفانہ موقع دینا ضروری ہے خواہ پہلے مقرر کی گئی سنیارٹی متعلقہ سروس قواعد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، عدالت نے سندھ پولیس کے سب انسپکٹرز کی سنیارٹی بغیر سماعت تبدیل کرنے سے متعلق سابقہ حکم واپس لیتے ہوئے محکمے کو متاثرہ افسران کا مؤقف سن کر قانون …
سنیارٹی تبدیل کرنے سے پہلے متاثرہ ملازمین کو سننے کا موقع دینا لازم ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کی سنیارٹی میں تبدیلی سے پہلے اسے مؤقف پیش کرنے کا منصفانہ موقع دینا ضروری ہے خواہ پہلے مقرر کی گئی سنیارٹی متعلقہ سروس قواعد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، عدالت نے سندھ پولیس کے سب انسپکٹرز کی سنیارٹی بغیر سماعت تبدیل کرنے سے متعلق سابقہ حکم واپس لیتے ہوئے محکمے کو متاثرہ افسران کا مؤقف سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ۔جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 9 جون 2026 کو سنیارٹی سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سندھ پولیس کے سب انسپکٹرز کی 2015 کی سنیارٹی لسٹ میں 2020 کے دوران تبدیلی کرتے وقت متاثرہ افسران کو سماعت کا موقع نہیں دیا گیا جو اصولِ سماعت، قانونی طریقہ کار اور آئین کے آرٹیکل 10 اے میں دیے گئے منصفانہ ٹرائل اور قانونی عمل کے تقاضوں کے منافی ہے۔فیصلے کے مطابق سنیارٹی ملازم کا اہم حق ہےجس کا اس کی پیشہ ورانہ ترقی اور مستقبل کے امکانات سے گہرا تعلق ہے، کسی ملازم کی سنیارٹی تبدیل کرنے سے پہلے متعلقہ حکام پر لازم ہے کہ وہ متاثرہ ملازمین کو سنیں اور ان کے اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد وجوہات پر مبنی حکم جاری کریں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ انہیں 28 اپریل 2015 کی سنیارٹی لسٹ میں مناسب مقام دیا گیا تھا تاہم بعد ازاں 18 نومبر 2020 کو ان کی سنیارٹی تبدیل کرکے انہیں اپنے ساتھیوں سے جونیئر قرار دے دیا گیا جبکہ انہیں نہ کوئی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ ملازم کو سنے بغیر انتظامی کارروائی کے ذریعے اس کی سنیارٹی ختم یا تبدیل کرنا قانونی تقاضوں کے منافی ہے، اگر سابقہ سنیارٹی سروس قواعد کے مطابق مقرر نہیں کی گئی تھی تب بھی متعلقہ ملازم کو اپنا دفاع پیش کرنے کا منصفانہ موقع دینا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے 4 اپریل 2024 کا اپنا سابقہ حکم واپس لیتے ہوئے متعلقہ سول درخواستیں بحال کر دیں اور انہیں اپیلوں میں تبدیل کرکے جزوی طور پر منظور کر لیا۔ عدالت نے سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ بھی درخواست گزاروں کے پہلے گروپ کی حد تک کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے محکمہ سندھ پولیس کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں سمیت دیگر متاثرہ افراد کو سماعت کا مناسب موقع فراہم کرکے ان کے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے اور قانون کے مطابق وجوہات پر مبنی حکم جاری کیا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر درخواست گزاروں کے اعتراضات درست پائے جائیں اور سنیارٹی میں اچانک تبدیلی غیرقانونی اور ناانصافی پر مبنی ثابت ہو تو فیصلے کی وصولی کے دو ماہ کے اندر نئی سنیارٹی لسٹ مرتب کرکے جاری کی جائے۔عدالت نے اس دوران درخواست گزاروں کے پہلے گروپ کی حد تک 18 نومبر 2020 کی سنیارٹی لسٹ سے متعلق موجودہ صورت حال برقرار رکھنے کا حکم بھی دیا۔







