سول سوسائٹی ، میڈیا اور دیگر تنظیمیں خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور ناروا سلوک کے خاتمے کےلئے اجتماعی کوششیں کریں، کنول شوزب

اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوزب نے کہا ہے کہ سول سوسائٹی ، میڈیا اور دیگر تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور دیگر ناروا سلوک کے خاتمے کے لئے اجتماعی کوششیں کریں۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات سے …

اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوزب نے کہا ہے کہ سول سوسائٹی ، میڈیا اور دیگر تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور دیگر ناروا سلوک کے خاتمے کے لئے اجتماعی کوششیں کریں۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ایسے معاملات میں تحقیقات کے جدید طریقوں کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے محکمہ پولیس کو اپ گریڈ کرنے کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرین کی موثر انداز میں خدمت کریں ۔ کنول شوزب نے کہا کہ عصمت دری اور تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کو کسی بھی طرح کے دباو¿ میں نہیں آنا چاہیے اور انہیں اذیت دینے والوں کے خلاف کھل کر اظہار خیال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا تحفظ پی ٹی آئی کی حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے ۔ رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں اس طرح کی بربریت کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ کنول شوزب نے کہا کہ خواتین کے خلاف مختلف نوعیت کے تشدد کی میڈیا کوریج نے انتہائی ضروری معاشرتی شعور کو بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے، میڈیا نے ان جرائم کے خلاف مزاحمت پیدا کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو لبرل ازم کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف انسانوں کے حقوق پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ، سیالکوٹ موٹروے پر عورت کے اجتماعی زیادتی کے تناظر میں عصمت دری کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کے بڑھتے ہوئے مطالبے پر اظہار خٰال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ہم اس پر عمل درآمد نہیں کرسکتے ہیں ، لیکن ہم قانون سازی کو مزید سخت بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنسی استحصال کے بہت سے ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کی اطلاع متعلقہ اداروں تک نہیں پہنچتی، ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جن بچوں اور خواتین کو عصمت دری کا نشانہ بنایا جاتا ہے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے قوانین بنانا ہوں گے جو ہمارے معاشرے میں خواتین اور بچوں کو ہراسگی کے خلاف تحفظ فراہم کرسکیں۔ کنول نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد نے معاشرتی اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور یہ صنفی مساوات کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ، ہم سب کو اس کے خلاف مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب عصمت دری کے واقعات کی تحقیقات ترجیحی بنیادوں پر کر رہی ہے،خواتین سے متعلق تمام معاملات سے نمٹنے کے لئے محکمہ پولیس میں مزید خواتین افسروں کی بھرتی کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔