اقوام متحدہ ۔24نومبر (اے پی پی):سوڈان جہاں ملک کی فوج اور نیم فوجی گروپ کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، وہاں ایک ماہ کے اندر تقریباً دو درجن بچے غذائیت کی قلت سے متعلق مسائل کے باعث ہلاک ہو گئے ۔العربیہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تباہ کن جنگ میں 40,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن امدادی گروپوں کا خیال ہے کہ …
سوڈان کے علاقے کردفان میں غذائیت کی قلت سے ایک ماہ کے اندر 23 بچے ہلاک، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔24نومبر (اے پی پی):سوڈان جہاں ملک کی فوج اور نیم فوجی گروپ کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، وہاں ایک ماہ کے اندر تقریباً دو درجن بچے غذائیت کی قلت سے متعلق مسائل کے باعث ہلاک ہو گئے ۔العربیہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تباہ کن جنگ میں 40,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن امدادی گروپوں کا خیال ہے کہ حقیقی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس کے باعث دنیا کا شدید ترین انسانی بحران پیدا ہوا جس میں 14 ملین سے زیادہ لوگ اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے، بیماریوں کے پھیلاؤ میں شدت آئی اور ملک کے بعض حصے قحط کا شکار ہو گئے۔کردفان کے علاقے میں 23 بچوں کی ہلاکت سے شمال مشرقی افریقی ملک میں خراب ہوتی انسانی صورتِ حال واضح ہو جاتی ہے جہاں 30 ماہ سے زائد کی تباہ کن جنگ کے بعد قحط پھیل رہا ہے۔
فاقہ کشی کے بین الاقوامی ماہرین کے مطابق ستمبر تک کردفان اور مغربی علاقے دارفر میں تقریباً 370,000 افراد قحط کا شکار ہو گئے جبکہ ان دونوں خطوں میں مزید 3.6 ملین افراد قحط سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہیں۔غذائیت کی قلت اور رسد کی شدید کمی بچوں کی اموات کی ذمہ دار ہے۔
تنازعے کا ریکارڈ رکھنے والے سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا کہ 20 اکتوبر اور 20 نومبر کے درمیان محصور شہر کدوگلی اور ڈِلنگ قصبے میں بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ملیں۔گروپ نےکہا کہ یہ اموات دو علاقوں میں "غذائیت کی انتہائی شدید قلت اور ضروری رسد کی کمی کا نتیجہ” ہیں جہاں ناکہ بندی سے "خوراک اور ادویات کا داخلہ رکا ہوا ہے اور ہزاروں شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔








