سپریم کورٹ ، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت 10 نومبر تک ملتوی

اسلام آباد ۔23اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی ۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ عزیر …

اسلام آباد ۔23اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی ۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری اور ایڈووکیٹ شاہد جمیل نے دلائل پیش کیے۔ وکیل شاہد جمیل کے دلائل مؤخر کرتے ہوئے عدالت نے ہدایت کی کہ انہیں بعد میں سنا جائے گا۔وکیل عزیر بھنڈاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ فل کورٹ ہمیشہ قائم رہتا ہے، تشکیل نہیں دیا جاتا اور اس کی تعریف آئین کے آرٹیکل 176 میں موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے فیصلے کے مطابق فل کورٹ کا حکم سب پر لاگو ہوگا۔اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا یہ کمیٹی آئین کے تحت قائم کی گئی تھی؟ جس پر وکیل عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ یہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت بنائی گئی تھی۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ “آرٹیکل 191-اے کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے، اسی کے تحت تو یہ بینچ قائم ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ “آرٹیکل 191-اے کسی کے اختیارات نہیں لے رہا بلکہ سپریم کورٹ کو بااختیار بنا رہا ہے۔سماعت کے دوران دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔سماعت 10 نومبر 2025 تک ملتوی کر دی گئی۔