اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی اصلاحات، وکلاء کی فلاح و بہبود اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے سلسلے میں اہم اقدامات کرتے ہوئے ایک جانب مختلف بار ایسوسی ایشنز کے وفود سے ملاقاتیں کیں جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک محفوظ، قابل توسیع اور کم لاگت ڈیٹا سینٹر کے قیام سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا۔ سپریم …
سپریم کورٹ میں جدید ڈیٹا سینٹر کے قیام کی تیاری، چیف جسٹس کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی مشاورت

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی اصلاحات، وکلاء کی فلاح و بہبود اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے سلسلے میں اہم اقدامات کرتے ہوئے ایک جانب مختلف بار ایسوسی ایشنز کے وفود سے ملاقاتیں کیں جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک محفوظ، قابل توسیع اور کم لاگت ڈیٹا سینٹر کے قیام سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سٹیک ہولڈرز انگیجمنٹ کے تحت راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، تحصیل بار ایسوسی ایشن کبل (سوات) اور مہمند بار ایسوسی ایشن، ضلع مہمند کے وفود نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں کے دوران شہریوں کو مرکز نگاہ رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی سے متعلق اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے چیف جسٹس کو وکلاء کی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف اقدامات سے آگاہ کیا جن میں وکلاء اور ان کے اہل خانہ کے لیے طبی امداد اور مرحوم وکلاء کے بچوں کی تعلیمی معاونت کے لیے ویلفیئر فنڈ کا قیام شامل ہے۔ چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے بار ایسوسی ایشن کی شفافیت، سماجی ذمہ داری اور فلاحی کردار کی تعریف کی۔
تحصیل بار ایسوسی ایشن کبل اور مہمند بار ایسوسی ایشن کے وفود نے وکلاء کی استعداد کار میں اضافے، ای لائبریریز کے قیام، سولرائزیشن اور خواتین وکلاء کے لیے سہولت مراکز کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے وفاقی جوڈیشل اکیڈمی کے کنٹینیونگ لیگل ایجوکیشن پروگرامز پر روشنی ڈالتے ہوئے اعلان کیا کہ نئے ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے وکلاء کے لیے ایک خصوصی ایک ہفتے کا تربیتی پروگرام منعقد کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری اور انصاف تک موثر رسائی کے لیے جاری اصلاحات سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ان اصلاحاتی منصوبوں کی تکمیل کا ہدف اگست 2026ء مقرر کیا گیا ہے جبکہ عدلیہ شہریوں پر مرکوز، شفاف اور پائیدار انصاف کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوئےجن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے ایک انٹرپرائز لیول ڈیٹا سینٹر کے قیام کی تجویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مجوزہ ڈیٹا سینٹر عدالتی ڈیجیٹائزیشن، ڈیٹا سکیورٹی کے تحفظ اور عدالتی آئی ٹی سسٹمز کی آپریشنل صلاحیت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ابتدائی مرحلے میں سپریم کورٹ کی آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ اندرونی مشاورت کی گئی جس میں ہائپر کنورجد انفراسٹرکچر (ایچ سی آئی) حل تجویز کیا گیا۔
بعد ازاں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور نادرا کے ساتھ تکنیکی اور پالیسی سطح کے اجلاس منعقد ہوئے تاکہ محفوظ، قابل توسیع اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر پر ماہرین کی رائے حاصل کی جا سکے۔
مزید برآں نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر سے بھی ملاقات کی گئی جس میں تکنیکی طور پر قابل عمل، پائیدار اور مالی طور پر موثر حل پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ حتمی تجاویز مرتب کر کے منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔







