اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ میں قتل کے ایک پرانے مقدمے کی اپیلیں لاہور ہائی کورٹ منتقل کرنے کے خلاف کیس کی سماعت میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ دسمبر 2015 میں تھانہ صدر بیرونی، راولپنڈی میں درج قتل کے …
سپریم کورٹ میں قتل کیس کی اپیلیں لاہور ہائی کورٹ منتقل کرنے کے خلاف کیس کی سماعت، فیصلہ محفوظ

مزید خبریں
اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ میں قتل کے ایک پرانے مقدمے کی اپیلیں لاہور ہائی کورٹ منتقل کرنے کے خلاف کیس کی سماعت میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ دسمبر 2015 میں تھانہ صدر بیرونی، راولپنڈی میں درج قتل کے مقدمے میں سات ملزمان میں سے چھ کو بری کردیا گیا تھا جبکہ ایک ملزم اخلاق کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
وکیل کے مطابق مدعی مقدمہ نے راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جس کے بعد کیس ساہیوال منتقل کیا گیا۔وکیل نے مزید بتایا کہ ساہیوال کی عدالت پر بھی عدم اعتماد ظاہر کرنے پر مدعی نے براہِ راست چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو درخواست دائر کی جس پر مقدمہ لاہور منتقل کردیا گیا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو مقدمہ اپنی عدالت میں منتقل کرنے کا اختیار نہیں تھا اور یہ اقدام اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے عدالتی نظام میں تاخیر اور اپیلوں کے غیر معمولی التواء پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ 25 سال بعد ایک شخص کا بری ہونا شرمندگی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 300 کے قریب اپیلیں سنی گئیں اور کئی ملزمان دہائیوں بعد بری ہو رہے ہیں جو عدالتی نظام کے لیے تشویش ناک امر ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر فیصلہ شفاف ہو تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے وکلاء کے درمیان تلخ گفتگو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں ایسے لڑ رہے ہیں جیسے سوتن لڑتی ہیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مرکزی مسئلہ اخلاق نامی وہ ملزم ہے جو پانچ سال سے جیل میں قید ہے اور اس کی اپیل کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوسکاجو انصاف کی فراہمی میں مزید تاخیر کا باعث ہے۔عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ معاملے کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیاجو مناسب وقت پر سنایا جائے گا۔








