سپریم کورٹ میں میت کی تدفین کے موقع پر ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ، فریقین کو نوٹسز جاری

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان میں میت کی تدفین کے موقع پر ہنگامہ آرائی اور اشتعال پھیلانے کے الزام میں گرفتار ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی جس کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے۔کیس کی بدھ کو سماعت جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران وکیلِ ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ توہینِ مذہب کے …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان میں میت کی تدفین کے موقع پر ہنگامہ آرائی اور اشتعال پھیلانے کے الزام میں گرفتار ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی جس کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے۔کیس کی بدھ کو سماعت جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران وکیلِ ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ توہینِ مذہب کے ملزم کی میت دفنانے کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا تاہم ان کے موکل مولوی احمد موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے موقع پر موجود لوگوں سے خطاب کیا جس کے نتیجے میں اشتعال پھیلا اور امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی۔ سرکاری وکیل کے مطابق کیس میں چار گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ کئے جا چکے ہیں۔ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم پر عائد دفعات کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک سال کی سزا بنتی ہے جبکہ ملزم گزشتہ 10ماہ سے جیل میں قید ہے، اس لئے اسے ضمانت دی جائے۔دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ ملزم کے خلاف سندھ کے علاقے عمرکوٹ تھانے میں اشتعال دلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔