سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزم عبدالرزاق کو بری کر دیا

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزم عبدالرزاق کو بری کر دیا۔سپریم کورٹ میں قتل کے مقدمے میں سزایافتہ عبدالرزاق کی بریت کی درخواست پر جمعرات کو سماعت ہوئی۔جس کے بعد عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر عبدالرزاق کو تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران مجرم کے وکیل جسٹس (ر) صغیر احمد قادری نے مؤقف اختیار …

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزم عبدالرزاق کو بری کر دیا۔سپریم کورٹ میں قتل کے مقدمے میں سزایافتہ عبدالرزاق کی بریت کی درخواست پر جمعرات کو سماعت ہوئی۔جس کے بعد عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر عبدالرزاق کو تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران مجرم کے وکیل جسٹس (ر) صغیر احمد قادری نے مؤقف اختیار کیا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل شواہد ایک دوسرے کی تائید نہیں کرتےجس کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کے طریقہ کار کو درست کرنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں۔

جسٹس (ر) صغیر احمد قادری نے کہا کہ ہائیکورٹس کے رولز کے مطابق ٹرائل کورٹ میں مقدمہ ایک ہفتے کے اندر مکمل ہونا چاہیےتاہم ان رولز پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ گواہوں کے بیانات کے بعد جرح میں مہینوں کی تاخیر ہوتی ہےجبکہ موجودہ کیس میں بھی گواہ کا بیان ریکارڈ ہونے کے کئی ماہ بعد جرح کی گئی۔سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اب وکلا کا کردار پہلے جیسا نہیں رہا اور عدلیہ کو درپیش مسائل کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بعض وکلا گواہ کا بیان ریکارڈ کروانے سے قبل ہی موبائل ریکارڈنگ عدالت میں پیش کر دیتے ہیں۔

وکیلِ صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کے نظام میں موجود خامیوں کے ازالے کے لیے سپریم کورٹ اس معاملے پر باقاعدہ فیصلہ جاری کرے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے عبدالرزاق کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد عبدالرزاق کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید خبریں