کے پی حکومت کا عدالتی شعبے کے لیے سب سے زیادہ بجٹ مختص کرنا انصاف کے شعبے کو مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ادارہ جاتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور عوامی سہولیات میں مسلسل بہتری ناگزیر ہے

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ادارہ جاتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور عوامی سہولیات میں مسلسل بہتری ناگزیر ہے، خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے عدالتی شعبے کیلئے سب سے زیادہ بجٹ مختص کرنا انصاف کے شعبے کو مضبوط بنانے کے صوبائی حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے یہ بات عدالتی شعبے کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات سے متعلق اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس شکیل احمد، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، پشاور ہائی کورٹ کے ججز جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات، سیکرٹری پلاننگ خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں عدالتوں کے کمپلیکسز کی سولرائزیشن، ای لائبریریوں کے قیام، خواتین کیلئے سہولت مراکز کے قیام اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

مقررہ اہداف کے حصول کیلئے جاری پیش رفت اور صوبائی حکومت کے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔چیف جسٹس نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے عدالتی شعبے کی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے انصاف کے اداروں کو مزید قابل رسائی، مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر ملک بھر میں یکساں قومی ای فائلنگ نظام کے قیام کیلئے بار کے ساتھ جاری مشاورتی عمل کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بار کو ابتدائی مرحلے ہی میں مشاورتی عمل میں شامل کرنا ضروری ہے کیونکہ وکلا ء اس نظام کے اہم فریق اور بنیادی صارفین ہیں۔مجوزہ معیاری قومی ای فائلنگ فریم ورک سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کیلئے یکساں معیارات پر مبنی ہوگا۔ یہ نظام سپریم کورٹ میں پہلے سے رائج ای فائلنگ کے تجربے کو بنیاد بناتے ہوئے عدالتی مقدمات کی ڈیجیٹل فائلنگ کو مربوط، معیاری اور مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔بار کے نمائندگان نے مجوزہ نظام کا خیرمقدم کیا، جبکہ متعلقہ کمیٹی کو ای فائلنگ کیلئے معیاری ٹیمپلیٹس اور طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

عدالتی اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے کے تحت ان اقدامات کا مقصد انصاف کی فراہمی کو تیز، مؤثر اور شفاف بنانا اور اسے شہریوں کیلئے مزید قابل رسائی بنانا ہے۔

مزید خبریں