قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی (این وائے ای پی ) پر قائم نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم آفس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کی
قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا پہلا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی (این وائے ای پی ) پر قائم نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم آفس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کی۔اجلاس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹس، سرکاری اداروں، تعلیمی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔ ڈاکٹر محمد علی ملک، جوائنٹ سیکرٹری سمیت وزیراعظم یوتھ پروگرام کے سینئر اراکین بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پاکستان کے نوجوانوں کے لئے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے کی ایک اہم کاوش ہے ۔ پالیسی کا مقصد نوجوانوں کی مہارتوں کو مارکیٹ کی حقیقی ضروریات اور تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں سے ہم آہنگ کرنا ہے جبکہ 2030 تک لیبر فورس میں شامل ہونے والے نئے افراد کے 100 فیصد روزگار اور خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کو 35 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پالیسی کے تحت 10 ترجیحی شعبوں بشمول آئی ٹی، ای کامرس، زراعت، تعمیرات، صحت، لاجسٹکس اور بیرونِ ملک روزگار پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اجلاس میں قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے نفاذ کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر نوجوانوں کے لئے روزگار اور معاشی مواقع کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اہم ترجیحات اور اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پالیسی پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور نگرانی کے میٹرکس پر بھی گفتگو ہوئی تاکہ اداروں کے کردار واضح اور اقدامات میں مؤثر رابطہ کاری یقینی بنائی جا سکے۔کمیٹی نے قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا۔ حکومت، نجی شعبے، تعلیمی اداروں، ہنرمندی کے فروغ سے متعلق اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ شرکاء نے اس حوالے سے اپنی آراء، تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔اجلاس میں پالیسی کے لیے مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن میکانزم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اقدامات کی باقاعدہ نگرانی اور بروقت فالو اَپ کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، پلاننگ کمیشن، وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وزارت اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، وزارت تجارت، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، ہائر ایجوکیشن کمیشن، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک)
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی )، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا)، ٹیکنالوجی فار پیپل انیشی ایٹو، LUMS، GIZ اور صوبائی یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹس کے نمائندگان نے شرکت کی۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کے لئے حکومتی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری، واضح ذمہ داریوں اور عملی نتائج پر مبنی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے روزگار، ہنرمندی اور کاروباری مواقع بہتر بنانے کے لئے حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔اجلاس میں قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے مؤثر نفاذ، نوجوانوں کی معاشی خودمختاری اور ان کی ملکی معیشت میں بھرپور شمولیت کے لئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔







