اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) سپریم کورٹ نے نیب عدالتوں میں زیر التواءمقدمات اور ریفرنسز میں تاخیر سے متعلق کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔ بدھ کو جاری ہونے والے تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ آج ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل، سیکرٹری قانون اور پراسیکیوٹر جنرل نیب پیش نہیں ہوئے، نیب عدالتوں کی کمی اور زیر التواءمقدمات میں تاخیر کی کوئی وجہ بھی …
سپریم کورٹ نے نیب عدالتوں میں زیر التواءمقدمات اور ریفرنسز سے متعلق کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) سپریم کورٹ نے نیب عدالتوں میں زیر التواءمقدمات اور ریفرنسز میں تاخیر سے متعلق کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔ بدھ کو جاری ہونے والے تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ آج ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل، سیکرٹری قانون اور پراسیکیوٹر جنرل نیب پیش نہیں ہوئے، نیب عدالتوں کی کمی اور زیر التواءمقدمات میں تاخیر کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کم از کم 120 نئی احتساب عدالتیں قائم کی جائیں، سیکرٹری قانون متعلقہ حکام سے ہدایت لے کر یہ نئی عدالتیں قائم کریں،120 نئی عدالتوں میں ججز کی تعیناتی بھی کی جائے۔ تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ کرپشن کے مقدمات، زیر التواءریفرنسز کا تین ماہ میں فیصلہ کیا جائے، آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل، پراسیکیوٹر جنرل نیب اور سیکرٹری قانون پیش ہوں۔ تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ نیب ریفرنسز کا جلد فیصلہ نہ ہونے سے نیب قانون بنانے کا مقصد ختم ہو جاتا ہے، نیب عدالتوں میں 1226 ریفرنسز زیر التواءہیں اور پانچ نیب عدالتیں خالی پڑی ہیں۔ تحریر ی حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ نیب ریفرنسز کا فیصلہ تیس دن میں نہ کرنے کی وضاحت پیش کی جائے، جبکہ پانچ احتساب عدالتوں میں ججز کی فوری تعیناتی کی جائے،تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں خالی پانچ احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی نہ ہوئی تو متعلقہ حکام کے خلاف ایکشن لیا جائےگا۔ تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ نیب زیر التوا کیسز سے نمٹنے کیلئے چیئرمین نیب سے تجاویز لے کر اس حوالہ سے رپورٹ بھی آئندہ سماعت تک عدالت عظمیٰ میں پیش کریں۔ کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کے بعد ہو گی۔








