اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاق اور نجی پاور کمپنی اسپنسر پاورجن کے درمیان پرفارمنس گارنٹی کے تنازع سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 2013 کا حکم برقرار رکھا ہے، جس میں پاور اینڈ واٹر ڈویژن اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) کو کمپنی کی 3 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کی پرفارمنس گارنٹی بمعہ منافع واپس کرنے کا …
سپریم کورٹ کا وفاق اور نجی پاور کمپنی پرفارمنس گارنٹی کیس میں فیصلہ برقرار، 3 کروڑ 30 لاکھ روپے کی ریکوری کا ہائی کورٹ کا حکم درست قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاق اور نجی پاور کمپنی اسپنسر پاورجن کے درمیان پرفارمنس گارنٹی کے تنازع سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 2013 کا حکم برقرار رکھا ہے، جس میں پاور اینڈ واٹر ڈویژن اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) کو کمپنی کی 3 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کی پرفارمنس گارنٹی بمعہ منافع واپس کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس مینگل حسن اورنگزیب نے تین رکنی بینچ کی جانب سے تحریری حکم جاری کیا جبکہ بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد شفیع صدیقی بھی شامل تھے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق 1994 میں حکومت نے نجی شعبے میں 330 میگاواٹ پاور پلانٹ کے لیے کمپنی کو لیٹر آف سپورٹ جاری کیا تھاتاہم 1996 میں ملک میں بجلی کی زائد پیداوار کے خدشے کے باعث اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے فیصلہ کیا کہ مجموعی 3 ہزار میگاواٹ کا ہدف پورا ہونے کے بعد باقی منصوبوں کے بینک گارنٹی ضبط کی جائیں گی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کابینہ ڈویژن کے 3 جولائی 1996 کے تصحیحی فیصلے کے مطابق وہ تمام منصوبے جن کے پاس 15 اپریل 1996 کو درست لیٹر آف سپورٹ موجود تھا مالی اختتام حاصل نہ کرنے کی صورت میں اپنی پرفارمنس گارنٹی کی واپسی کے حق دار تھےبشرطیکہ وہ حکومت اور متعلقہ اداروں کے خلاف مزید قانونی کارروائی نہ کریں۔
حکم نامے کے مطابق وزارت پانی و بجلی کی جانب سے 1997 میں تیار کردہ رپورٹ جو خود حکومت نے عدالت میں پیش کی، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اسپنسر پاورجن اس پالیسی کے تحت رقوم کی واپسی کا حق رکھتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ نے صرف پرفارمنس گارنٹی کی واپسی کا حکم دیا تھا، جو کسی معاہدہ جاتی حق میں مداخلت نہیں بنتا، بلکہ ECC کے فیصلے پر عملدرآمد ہے۔








