اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان ریلوے کی جانب سے دائر شہری درخواست (سول پٹیشن نمبر 2761/2023) مسترد کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹریبونل کا وہ فیصلہ برقرار رکھا ہے جس کے تحت برطرف ملازم کی سزا کو ’’جبری ریٹائرمنٹ‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس …
سپریم کورٹ کا پاکستان ریلوے کے ملازم کی برطرفی کے خلاف ٹریبونل کا فیصلہ برقرار ، نظرثانی کی درخواست مسترد

مزید خبریں
اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان ریلوے کی جانب سے دائر شہری درخواست (سول پٹیشن نمبر 2761/2023) مسترد کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹریبونل کا وہ فیصلہ برقرار رکھا ہے جس کے تحت برطرف ملازم کی سزا کو ’’جبری ریٹائرمنٹ‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ پاکستان ریلوے نے متعلقہ ملازم سید قیصر عباس کے خلاف باقاعدہ محکمانہ انکوائری (ریگولر انکوائری ) کے بغیر ہی بڑی سزا یعنی برطرفی عائد کی جو قانون اور آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت دیئے گئے ’’منصفانہ ٹرائل‘‘ کے حق کی خلاف ورزی ہے،سید قیصر عباس، جو پاکستان ریلوے میں CSR(B) کے عہدے پر تعینات تھے، پر الزام تھا کہ انہوں نے 26 لاکھ 53 ہزار 850 روپے حکومتی رقم میں خورد برد کی اور روزانہ کی آمدنی وقت پر نیشنل بینک میں جمع نہیں کرائی۔ اس بنیاد پر انہیں 3 جون 2014 کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
انہوں نے یہ فیصلہ وفاقی سروس ٹریبونل میں چیلنج کیا جہاں ٹریبونل نے برطرفی کو ’’جبری ریٹائرمنٹ‘‘ میں تبدیل کر دیا تھا۔ پاکستان ریلوے نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ریکارڈ میں کسی باقاعدہ انکوائری آفیسر کی تقرری، انکوائری آرڈر یا مکمل تحقیقاتی رپورٹ موجود نہیں۔محض ’’فیکٹ فائنڈنگ انکوائری ‘‘کی بنیاد پر بڑی سزا دینا قانوناً درست نہیں۔
متعلقہ کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں واضح لکھا تھا کہ ملازم کے خلاف کارروائی ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کی جائے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ باقاعدہ انکوائری ہوئی ہی نہیں،اس قسم کی کارروائی آئینی حقِ دفاع اور شفاف ٹرائل کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔عدالت نے فیصلے میں متعدد سابقہ نظائر کا حوالہ بھی دیا جن میں محکمانہ انکوائری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹریبونل کا فیصلہ درست اور قانونی اصولوں کے مطابق ہے۔پاکستان ریلوے کی درخواست میں کوئی ایسا قانونی نکتہ نہیں اٹھایا گیا جو آئین کے آرٹیکل 212(3) کے تحت مداخلت کا متقاضی ہو۔








