اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):شمالی علاقہ جات کے دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ کے باوجود سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کوقومی ترجیحات میں شامل کر دیا۔ایس سی او جدید نیٹ ورک گلگت بلتستان اور آزادجموں وکشمیر میں خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے میں مصروف ہے۔ نجی کمپنیوں کی عدم دلچسپی کے برعکس ایس سی او نے ناقابل رسائی علاقوں میں بھی …
سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کوقومی ترجیحات میں شامل کر دیا
اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):شمالی علاقہ جات کے دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ کے باوجود سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کوقومی ترجیحات میں شامل کر دیا۔ایس سی او جدید نیٹ ورک گلگت بلتستان اور آزادجموں وکشمیر میں خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے میں مصروف ہے۔
نجی کمپنیوں کی عدم دلچسپی کے برعکس ایس سی او نے ناقابل رسائی علاقوں میں بھی نیٹ ورک پہنچادیا۔ایس سی اونے دشوارگزار پہاڑی سلسلوں میں ہائی الٹیٹیوٹ ٹاورز نصب کرکے مواصلاتی تاریخ میں نئی مثال رقم کردی۔ڈیجیٹل دور کے منصوبے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس ) کے فیز 4 کے تحت 4G اور 5G کی فراہمی کے بعد ایس سی او کا کردار مزید مستحکم ہو گیا۔
ایس سی او نےجی4اور بعد ازاںجی 5نیٹ ورک کے باقاعدہ آغاز کی راہ ہموار کر دی ہے۔جدید فائبر آپٹک اور بیک ہال نیٹ ورک نے شمالی علاقوں میں ڈیٹا اسپیڈ اورسروس کوالٹی کو نمایاں طور پربہتربنایا گیا ہے۔ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں واضح بہتری سےمقامی نوجوانوں کے لیے آن لائن تعلیم اور روزگار کےنئے باب کھل گئے ہیں۔ایس سی او کی سرمایہ کاری عوامی ضرورت اور ریاستی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔
ایس سی او کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن نے گلگت بلتستان اور آزادجموں وکشمیرکوعالمی ڈیجیٹل نظام کے ساتھ براہ راست جوڑ دیا ہے۔ڈیجیٹل رسائی میں اضافے سے مقامی معیشت، ای کامرس اور فری لانسنگ کے مواقع فروغ پارہے ہیں۔جدید نیٹ ورک سے نوجوان اپنے دیہی اوردور افتادہ علاقوں میں بھی کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لےسکیں گے۔









