اسلام آباد/ آستانہ ۔ 24 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قزاخستان کے یورو ایشیئن کانفرنس کے دوران دو بڑے براعظموں کے پارلیمانی نمائندوں کے سامنے بھارت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان خطہ میں امن و خوشحالی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیک نیتی، اعتماد اور مشترکہ …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے یورو ایشیئن کانفرنس کے دوران پارلیمانی نمائندوں کے سامنے بھارت کو بے نقاب کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد/ آستانہ ۔ 24 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قزاخستان کے یورو ایشیئن کانفرنس کے دوران دو بڑے براعظموں کے پارلیمانی نمائندوں کے سامنے بھارت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان خطہ میں امن و خوشحالی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیک نیتی، اعتماد اور مشترکہ ذمہ داریوں کے جذبہ کے تحت علاقائی امن اور مفاہمت کےلئے طالبان اور واشنگٹن کے مابین مذاکرات میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ سپیکر نے جب مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا تو راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین اپنی سیٹ پر کھڑے ہو گئے اور شور وغل کے ذریعے سپیکر کی تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے رہے تاہم سپیکر نے بھرپور انداز میں اپنی تقریر جاری رکھی اور بھارتی مندوب کے شور شرابہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کانفرنس کے شرکاءکو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری مظالم سے آگاہ کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی بربریت نے انسانیت کو شرمندہ کیا ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے مندوبین کو بتایا کہ ایک لاکھ سے زیادہ کشمیر ی شہید کر دیئے گئے ہیں اور ہزاروں لاپتہ ہیں، 22 ہزار سے زاہد خواتین بیوہ ہو چکی ہیں، ایک لاکھ بچے یتیم ہو چکے ہیں اور جبکہ 11 ہزار سے زائد خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 8 ہزار سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہو ئی ہیں۔ سپیکر نے بتایا کہ 5 اگست 2019ءکو بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائی کرکے مقبوضہ جموں کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد مقبوضہ وادی میں سکیورٹی پابندیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور وہاں پر گزشتہ 51 دن سے کرفیو کے نافذہے جس کی وجہ سے ایک نیا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی مظلوم عوام 5 اگست سے کرفیوکے نفاذ کی وجہ سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور وہاں پر موصلاتی نظام معطل ہے اور انسانی بنیادی ضروریات زندگی کاشدید فقدان ہے۔







