سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس ، بیرون ملک پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کے امور کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔ 10 جون (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں بیرون ملک پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کے امور کا جائزہ لینے کےلئے بدھ کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے معاون برائے اوورسیز پاکستانیز سیّد ذوالفقار عباس بخاری، بیرون ملک پھنسے ہوئے تارکین وطن کی واپسی کےلئے قائم قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے …

اسلام آباد۔ 10 جون (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں بیرون ملک پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کے امور کا جائزہ لینے کےلئے بدھ کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے معاون برائے اوورسیز پاکستانیز سیّد ذوالفقار عباس بخاری، بیرون ملک پھنسے ہوئے تارکین وطن کی واپسی کےلئے قائم قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے کنوینئر شاہد حسین، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور اور قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کے چیئرمینوں ملک احسان اللہ ٹوانہ اور شیخ فیاض الدین نے شرکت کی۔ سپیکر نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی مشکلات جو وطن واپس آنا چاہتے ہیں کا ذکر تے ہوئے کہا کہ زیادہ تر بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور انہیں رہائش کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اسپیکر اسد قیصر نے وزارت خارجہ کے بیرون ملک قائم مشنز اوروزارت براے اوورسیزپاکستانیز کی جانب سے بیرون ملک پھنسے ہوئے تارکین وطن کی رہائش کےلئے انتظامات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تارکین وطن جو واپس آنا چاہتے ہیں ان کی واپسی کےلئے ہر ممکن اقدامات ا±ٹھائے جائیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کو مطلع کیا کہ وزارت خارجہ متحرک انداز میں بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی کےلئے اقدامات ا±ٹھا رہی ہے اور اس مقصد کےلئے وزارت خارجہ میں کرائسسز مینجمنٹ یونٹ قائم کیا گیا ہے جو 24 گھنٹے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کورونا وائرس وباءکے شروع ہونے سے اب تک60 ممالک سے 62000 پاکستانیوں جن میں 1712 بیرون ملک قید پاکستانی بھی شامل ہیں، کو وطن واپس لایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2054 میں سے 2018 تبلیغی جماعت کے اراکین کو بھی واپس لایا جا چکا ہے وزیر خارجہ نے کہا کہ باقی ماندہ 90000 سے زائد پاکستانیوں کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ا±ٹھا جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ نے بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی اور ا±ن کے رہائش کے بندوبست کے سلسلے میں تمام تر انتظامات اپنے بجٹ سے کیے جس پر 150ملین روپے کی لاگت آئی۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں نے 479 میتیں پاکستان پہنچانے کے انتظامات بھی کیے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت خارجہ کا ایئر ٹکٹوں کی بکنگ اور فروخت میں کوئی کردار نہیں ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سیّد ذوالفقار عباس نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی استعداد میں اضافہ کرتے ہوئے ہفتہ وار استعداد کو 2000 ہزار سے بڑھ کر 18000 کر دیا گیا ہے اوراس مقصد کےلئے 6 ایئر پورٹس کوفعال کیا گیا ہے۔ انہوں نے لاک ڈاو¿ن سے پہلے سے جاری فلائٹ آپریشن کو 40 فیصد تک بحال کرنے کی منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس ا±مید کا اظہار کیا کہ ان اقدامات سے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس پہنچنے کےلئے درپیش مشکلات میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 580طلباءکو چین سے رعایتی ٹکٹوں پر وطن واپس لایا گیاہے۔ اراکین قومی اسمبلی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے بتایا کہ ا±ن تارکین وطن جن کا وزٹ ویزا ختم ہو گیا تھا یا وہ بے روزگار ہو گئے تھے کو ترجیحی بنیادوں پر واپس لایا گیاہے۔ انہوں نے پاکستانی سفارتخانوں اور قونصلیٹ جنہوں نے محدود افرادی قوت کے ہوتے ہوئے اس مشکل وقت میں بہترین خدمات سرانجام دیں کو سراہا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے اپنے اختتامی کلمات میں وزارت خارجہ اور اوورسیز پاکستانیزکی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکیا۔ انہوں نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے تحفظات دور کرنے کےلئے ا±نہیں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کےلئے طریق کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔