اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور تاجروں کو سہولیات فراہم کرنے سے پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا جو ملک کے بہترین معاشی مفاد میں ہے۔ خاص طور پر سرحدوں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کاروبار کرنے میں آسانی سے ان علاقوں …
تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور تاجروں کو سہولیات فراہم کرنے سے پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا جو ملک کے بہترین معاشی مفاد میں ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرپاک افغان فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے دوسرے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور تاجروں کو سہولیات فراہم کرنے سے پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا جو ملک کے بہترین معاشی مفاد میں ہے۔ خاص طور پر سرحدوں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کاروبار کرنے میں آسانی سے ان علاقوں کے عوام کے لئے روزگار کے مواقعوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ سرحد کے دونوں طرف نان ٹیرف رکاوٹوں میں کمی سے باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا۔ پاکستانی برآمدات جو کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی اس کی بحالی کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پاک افغان فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اسپیکر نے پارلیمنٹیرینز اور متعلقہ ادارہ جاتی اسٹیک ہولڈرز یعنی وفاقی حکومت کے محکموں ، صوبائی حکومتوں ، تاجروں اور ان کی ایسوسی ایشن کی اس ایگزیکٹو کمیٹی کے ذریعہ طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے خاص طور پر طورخم بارڈر ، غلام خان ، انگور اڈا کے مقام پر تاجروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے تجاویز دینے پر ان کے فعال کردار کی تعریف کی۔ ویزا لبرلائزیشن اسکیم سے متعلق ڈرافٹ پالیسی پر انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ پاک افغان پارلیمانی دوستی گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی تجاویز کو بروقت عمل میں لانے سے دونوں ممالک میں تعلقات میں مذید بہتری آئے گی۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، پاکستان کسٹمز ، نیشنل لاجسٹک سیل اور خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ ایگزیکٹو کمیٹی کی سفارشات کو اپنی طے شدہ کے اندر نافذ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کمیٹی کے نوٹس میں لائی گئی تھی کہ غلام خان بارڈر پر افغانستان کی ٹرانزٹ تجارت کے تاجروں کو بینک کی عدم موجودگی ، طورخم بارڈر پر کنٹینرز کا وزن ، کراچی بندرگاہ پر غیر معقول ڈموریج چارجز عائد کئے جانے کی وجہ سے انھیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ اسپیکر نے سال 2021 میں ختم ہونے والے پاکستان افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر بات چیت کی نگرانی کے لئے ایک ٹاسک فورس بھی تشکیل دی۔ انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ اور ادارہ جاتی اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے آئندہ جامع تجارتی معاہدے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اپنے افغان ہم منصب کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ افغان اسپیکر کو اس بات کا یقین ہے کہ پارلیمنٹ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عوامی روابط کے علاوہ باہمی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے ایگزیکٹو کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اکتوبر 2020 میں ایک سیمینار منعقد کرنے جا رہی ہے جس میں پاکستان افعانستان تجارت اور دو طرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے کیے گے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی محمد ارباب شہزاد نے اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی سہولیات کی فراہمی میں ہائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے خصوصی اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے ایگزیکٹو کمیٹی کو بارڈر اور ویزا کے معاملات پر بریف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ COVIDـ19 کی وجہ سے طورخم بارڈر کنٹینرز کے جمع ہونے والے رش کی کلیئرنس اس ماہ کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے حل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ویزا سہولت سے متعلق ڈرافٹ پالیسی تیار کرلی گئی ہے اور کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ شندانہ گلزار ، ایم این اے نے ایگزیکٹو کمیٹی کو کناٹینرز پر عائد ڈمرجز معاف کرنے کے معاملات پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر چمن اور افغانستان کے مابین چیک پوسٹوں کی تعداد کو کم کرنے پر اتفاق کیا اور چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی گئی کہ وہ چیکنگ کے معاملے میں ٹرانزٹ تجارت سے متعلق تاجروں کے ٹرکوں کو سہولت فراہم کرے۔ وزیر برائے قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے کمیٹی کو اجناس ، مویشیوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارت کے بے پناہ موقہع موجود ہیں جن کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے سرحدوں پر وزارت دفاع کی جانب سے سہولیات کے بارے میں ایگزیکٹو کمیٹی کو یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ہیں اور ان کا مستقبل ایک دوسرے سے وابسطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی سہولیات اور دونوں اطرف مراعات سے سرحدوں کے پار نہیں بلکہ پورے خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت نے ایگزیکٹو کمیٹی کو یقین دلایا کہ افعانستان پاکستانی مصنوعات کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اور اس ظمن میں ھائل تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کے علاوہ تاجروں کو مراعات بھی دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ جون 2021 میں ختم ہورہا تھا اور معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع کردی گئی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ اس کی تمام سفارشات کو نئی پالیسی میں شامل کیا جائے گا۔








