سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا دو روزہ سارک ینگ پارلیمانی کانفرنس 2016ءکی اختتامی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق نے کہا ہے کہ معاملات کو جنگ کے ذریعے حل کرنا ہے یا مذکرات کے ذریعے حل کرنا ہے اس کا بات کا انحصار اراکین پارلیمنٹ پر ہے، انہوں نے سارک ممالک کے مابین پارلیمانی وفود کے تبادلوں میں خواتین کو سیاست میں جائز نمائندگی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ان خیالات …

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق نے کہا ہے کہ معاملات کو جنگ کے ذریعے حل کرنا ہے یا مذکرات کے ذریعے حل کرنا ہے اس کا بات کا انحصار اراکین پارلیمنٹ پر ہے، انہوں نے سارک ممالک کے مابین پارلیمانی وفود کے تبادلوں میں خواتین کو سیاست میں جائز نمائندگی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان انسٹیٹوٹ آف پارلیمنٹری سر وسز میں منعقد ہونے والی پہلی دو روزہ سارک ینگ پارلیمانی کانفرنس 2016ءکی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سر دار ایاز صادق نے کانفرنس کے مندوبین کو بتایا کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے اور سخت جدوجہد اور کوششوں کے بعد اس لعنت پر قابو پانے میں کامیاب ہوا ہے۔ انہوں نے کوئٹہ، پیرس اور برسلز میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا نہ ہی کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی قومیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ناسور کے خاتمہ کےلئے ہم سب کو مل کر مشترکہ جدوجہد کرنا ہو گی۔ سپیکر نے نوجوانوں کو فیصلہ کن قوت قرار دیتے ہوئے انہیں سیاست میں بھرپور حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ہمارے کسی بھی غلط فیصلہ کی ہم سے جواب دہی کرنی چاہئے۔ انہوں نے نوجوانوں سے رابطہ کےلئے غیر ملکی وفود کو مختلف یونیورسٹیوں کا دورہ کر نے کی خواہش کا اظہار کیا۔

مزید خبریں

Leave a Reply