سیاسی و کشمیری رہنماﺅں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور تجزیہ کاروں کا اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی کشمیر کے حوالہ سے رپورٹ کا خیرمقدم

اسلام آباد ۔ 21 جون (اے پی پی) سیاسی و کشمیری رہنماﺅں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور معروف تجزیہ کاروں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی کشمیر کے حوالہ سے رپورٹ کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جامع اور آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کیلئے کمیشن آف انکوائری قائم کرنے پر زور …

اسلام آباد ۔ 21 جون (اے پی پی) سیاسی و کشمیری رہنماﺅں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور معروف تجزیہ کاروں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی کشمیر کے حوالہ سے رپورٹ کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جامع اور آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کیلئے کمیشن آف انکوائری قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس آفس کی 49 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ماضی میں کی گئی اور جاری خلاف ورزیوں کا مسئلہ حل کرنے اور کشمیری عوام کو انصاف دینے کی فوری ضرورت ہے۔ سیاستدانوں، کشمیری رہنماﺅں، معروف تجزیہ کاروں، دفاعی اور عالمی امور کے ماہرین نے اس رپورٹ کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق زید الحسین نے کہا ہے کہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ کمیشن آف انکوائری اقوام متحدہ کا اعلیٰ سطحی تحقیقات کا فورم ہے جو عام طور پر تنازعہ شام جیسے بڑے بحرانوں کیلئے مخصوص ہے۔ بھارت نے اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جاری کردہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا تفصیلاً ذکر ہے بالخصوص 8 جولائی 2016ءکو برہان وانی کی شہادت کے بعد بے تحاشا طاقت کے استعمال، ہلاکتوں، پیلٹ گن کا استعمال اور اس کے نتیجہ میں کشمیری نوجوانوں کو بینائی سے محروم کرنا، غیر قانونی طور پر گرفتاریوں، نظر بندیوں، جنسی تشدد اور گمشدگیوں کا تذکرہ اور تفصیلاً کیا گیا ہے۔