سیالکوٹ، پاکستان کا ایکسپورٹ پاور ہاؤس، ہنر، صنعت اور اپنی مدد آپ کی روشن مثال

پاکستان کے صنعتی نقشے پر سیالکوٹ ایک ایسے منفرد شہر کی حیثیت رکھتا ہے جس نے محدود وسائل، ہنرمند افرادی قوت، کاروباری بصیرت اور اپنی مدد آپ کے جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

سیالکوٹ۔3ستمبر (اے پی پی):پاکستان کے صنعتی نقشے پر سیالکوٹ ایک ایسے منفرد شہر کی حیثیت رکھتا ہے جس نے محدود وسائل، ہنرمند افرادی قوت، کاروباری بصیرت اور اپنی مدد آپ کے جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

کھیلوں کے سامان، آلات جراحی، چمڑے کی مصنوعات، گارمنٹس اور دیگر ویلیو ایڈڈ اشیاء کی تیاری میں عالمی شہرت رکھنے والا سیالکوٹ آج پاکستان کے اہم ترین برآمدی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اسی بنا پر اسے بجا طور پر ملک کا ’’ایکسپورٹ پاور ہاؤس‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔سیالکوٹ کی صنعتی شناخت کا سب سے نمایاں پہلو اس کا برآمدی رجحان ہے۔ یہاں مقامی طور پر تیار ہونے والی تقریباً 99 فیصد مصنوعات دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں جبکہ شہر کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں سالانہ 2.5 بلین ڈالر سے زیادہ کا قیمتی زرمبادلہ کما کر قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے سیالکوٹ میں ڈائریکٹر خالد رسول کے مطابق سیالکوٹ پاکستان کے نمایاں صنعتی اور برآمدی مراکز میں شامل ہے جہاں ہزاروں چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی یونٹس بین الاقوامی منڈیوں کے لیے مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں اور دنیا بھر میں مسلسل سفری و تجارتی روابط کے باعث سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کو اکثر پاکستان کے ’’رومنگ ایمبیسیڈرز‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ برآمد کنندگان نہ صرف ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کماتے ہیں بلکہ عالمی نمائشوں، تجارتی وفود، کاروباری ملاقاتوں اور بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ روابط کے ذریعے ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ مصنوعات اور پاکستان کے مثبت تشخص کو دنیا بھر میں اجاگر کرتے ہیں۔

صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سید احتشام مظہر کے مطابق اس وقت 25,000 سے زیادہ فعال فرمیں سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ وابستہ ہیں جو شہر کی متحرک اور وسیع کاروباری برادری کی عکاسی کرتی ہیں۔ سیالکوٹ پاکستان کے بہت سے دوسرے شہروں کے مقابلے میں زیادہ فی کس آمدنی رکھنے کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ یہاں کی مضبوط برآمدی معیشت، ہنرمند افرادی قوت، خاندانی سطح پر قائم کاروبار اور چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کا وسیع نیٹ ورک ہے۔سیالکوٹ اور اس کے گردونواح میں ہزاروں صنعتی یونٹس چمڑے کے سامان، کھیلوں کے سامان، آلات جراحی، مختلف اقسام کے دستانوں، ٹیکسٹائل مصنوعات، کھیلوں کے لباس، مارشل آرٹس یونیفارم اور لوازمات، موسیقی کے آلات، کچن ویئر، ہولو ویئر، چاقو، کٹلری کی اشیاء اور فوجی یونیفارم کے بیجز سمیت متعدد ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔ ان مصنوعات نے معیار، دستکاری اور مسابقتی قیمتوں کی بدولت دنیا کی بڑی منڈیوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔

سیالکوٹ بالخصوص فٹ بال، فیلڈ ہاکی اسٹکس، کرکٹ گیئر، باکسنگ گلوز اور دیگر کھیلوں کے سامان کی تیاری کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں تیار ہونے والی مصنوعات اولمپک گیمز اور ورلڈ کپ سمیت بڑے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں بھی استعمال ہوتی رہی ہیں۔ کھیلوں کے سامان کی تیاری میں سیالکوٹ کے کاریگروں کی مہارت کئی دہائیوں پر محیط ہے اور ایک فٹ بال، دستانے یا دیگر کھیلوں کی مصنوعات کی تیاری سے لے کر اس کی پیکنگ اور برآمد تک متعدد ہنرمند افراد اس صنعت سے وابستہ ہوتے ہیں۔اسی طرح آلات جراحی کی صنعت بھی سیالکوٹ کی قدیم ترین اور اہم ترین صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ سیالکوٹ میں تیار ہونے والے پاکستانی آلات جراحی کو عالمی سطح پر ان کے اعلیٰ معیار، باریک کاریگری اور مسابقتی قیمتوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ شہر میں سرجری، ڈینٹل اور دیگر طبی شعبوں کے لیے ہزاروں اقسام کے آلات تیار کیے جاتے ہیں جو مختلف بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد ہوتے ہیں۔

چیئرمین سرجیکل انسٹرومنس منیوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹر ایسوسی ایشن پاکستان(سیماپ) ذیشان طارق کے مطابق آلات جراحی کے شعبے نے 2024 میں تقریباً 449 ملین امریکی ڈالر کی برآمدات کیں جبکہ اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، پریسیژن مینوفیکچرنگ، سرٹیفکیشن اور بہتر ویلیو ایڈیشن کے ذریعے مزید وسعت کی بڑی گنجائش موجود ہے۔سیالکوٹ کی کامیابی صرف فیکٹریوں اور برآمدی اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ یہاں کی کاروباری برادری نے سماجی ذمہ داری اور اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت ایسے منصوبے بھی مکمل کیے ہیں جو پورے ملک میں نجی شعبے کی اجتماعی قوت کی نمایاں مثال سمجھے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ کا قیام سب سے اہم مثالوں میں شامل ہے۔

چیئرمین سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیر پورٹ(سیال) عبدالغفور ملک نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیالکوٹ کی کاروباری برادری نے عالمی خریداروں، برآمد کنندگان اور مسافروں کو درپیش سفری اور لاجسٹک مسائل کے حل کے لیے اجتماعی طور پر اس منصوبے کو عملی شکل دی۔سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی کامیابی کے بعد شہر کی کاروباری برادری نے فضائی رابطوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے نجی ایئرلائن ایئرسیال کے قیام کی جانب بھی قدم بڑھایا۔ یہ دونوں بڑے منصوبے سیالکوٹ کے تاجروں اور صنعتکاروں کے وژن، اتحاد، خود انحصاری اور اپنے شہر کی ترقی کے لیے اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔شہر کے تجارتی و صنعتی معاملات کے ساتھ ساتھ برآمد کنندگان کو مواصلات، ڈاک اور لاجسٹکس سمیت مختلف سہولیات کی فراہمی بھی اہمیت رکھتی ہے۔

اس حوالے سے سلیم اختر بھٹہ، ایگزیکٹو ممبر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سابق چیئرمین سیالکوٹ چیمبر کی ڈیپارٹمنٹل کمیٹی برائے پوسٹ آفس بھی ان کاروباری نمائندوں میں شامل ہیں جو صنعت و تجارت سے وابستہ مختلف انتظامی اور سہولت کاری کے امور میں کاروباری برادری کی نمائندگی کرتے رہے ہیں کے مطابق سیالکوٹ میں برآمدات کو مزید وسعت دینے کے لیے جدید کاروباری حکمت عملی، تحقیق و ترقی، آٹومیشن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، جدید مصنوعات کی ڈیزائننگ، بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور عالمی سطح پر اپنے برانڈز متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ سیالکوٹ کی بہت سی صنعتیں دنیا کے معروف برانڈز کے لیے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کرتی ہیں، تاہم انہی مصنوعات کو پاکستانی برانڈز کے تحت عالمی منڈیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں متعارف کروا کر برآمدی آمدن میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

آلات جراحی کے شعبے میں جدید پریسیژن مینوفیکچرنگ، کھیلوں کے سامان میں عالمی معیار کی برانڈنگ، اسپورٹس ویئر اور ٹیکسٹائل میں تکنیکی اور ماحول دوست مصنوعات جبکہ چمڑے کی صنعت میں زیادہ ویلیو ایڈڈ تیار مصنوعات کے فروغ سے سیالکوٹ کے لیے نئی عالمی منڈیاں حاصل کرنے کے امکانات موجود ہیں۔سیالکوٹ کی صنعتی تاریخ اس امر کی عکاس ہے کہ اس شہر کے صنعتکاروں اور برآمد کنندگان نے ہنر، کاروباری ذہانت، محنت، اجتماعی سرمایہ کاری اور خود انحصاری کے ذریعے اپنی کامیابی کی راہیں خود متعین کی ہیں۔ تقریباً 99 فیصد مصنوعات کا برآمدی رخ، سالانہ 2.5 بلین ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ، 25,000 سے زیادہ فعال فرمیں، ہزاروں ہنرمند کارکن اور اپنی مدد آپ سے قائم بڑے منصوبے سیالکوٹ کو محض ایک صنعتی شہر ہی نہیں بلکہ پاکستان کی برآمدی صلاحیت، کاروباری عزم اور دنیا میں ملک کے مثبت تشخص کی ایک مضبوط علامت بناتے ہیں۔