سیالکوٹ، کاشتکاروں کو گھیا کدو کی فصل کو لال بھونڈی کے حملہ سے بچانے کیلئے فوری حفاظتی وتدارکی اقدامات کی ہدایت

اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے

سیالکوٹ۔10جون (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھیا کدو کی فصل کو لال بھونڈی، پھل کی مکھی اور دیگر نقصان دہ کیڑوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری حفاظتی اور تدارکی اقدامات اختیار کریں تاکہ بہتر پیداوار حاصل کی جا سکے۔انہوں نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ پھل بننے کے مرحلے پر گھیا کدو کی فصل کو خصوصی نگہداشت اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسم گرما کے دوران لال بھونڈی فصل کے پتوں اور پھولوں پر حملہ آور ہو کر انہیں نقصان پہنچاتی ہے جس کے باعث پودے کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور پھل سوکھ کر گرنا شروع ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پھل کی مکھی بھی گھیا کدو کی فصل کے لیے انتہائی نقصان دہ کیڑا ہے جو تیار شدہ پھل میں سوراخ کر کے اندر داخل ہو جاتی ہے، جس سے پھل کا معیار اور پیداوار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ موزیک وائرس کی بیماری رس چوسنے والے کیڑوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کی ابتدائی علامات میں پتوں کا ہلکے سبز رنگ کا ہو جانا شامل ہے، جبکہ بیماری کے بڑھنے کی صورت میں متاثرہ بیل پر پھول نہیں بنتے یا بہت کم تعداد میں بنتے ہیں جس سے پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکارفصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور کسی بھی قسم کے حملے یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر محکمہ زراعت کے مقامی عملہ سے رابطہ کر کے سفارش کردہ تدارکی اقدامات اختیار کریں تاکہ فصل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

مزید خبریں