24.2 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںسیدہ نوشین افتخارکی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی...

سیدہ نوشین افتخارکی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کا دوسرا اجلاس

- Advertisement -

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کا دوسرا اجلاس جمعرات کو یہاں کمیٹی روم کوہسار بلاک میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سیدہ نوشین افتخار نے کی۔ اجلاس کو قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور اس سے منسلک اداروں کے کام اور کارکردگی پر سینئر جوائنٹ سیکرٹری نے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ڈویژن کے اہم امور کا خاکہ پیش کیا جس میں پاکستان کے ثقافتی ورثے، فنون لطیفہ، زبانوں، ادب، آثار قدیمہ کے مقامات، عجائب گھروں اور تاریخی یادگاروں کو فروغ، ترقی دینا اور محفوظ کرنا شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قومی ورثہ اور ثقافت کی فروغ اور تحفظ کا کام مقامی اور بین الاقوامی تعاون، ادارہ جاتی روابط کے فروغ، زوال پذیر اقدار کے نظام کے تحفظ اور رواداری کے فروغ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈویژن کے تحت 11تنظیمیں کام کرتی ہیں۔بعد ازاں مختلف متعلقہ محکموں کے سربراہان نے بھی کمیٹی کو بریفنگ دی۔ لوک ورثہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ادارہ کے کے آرڈیننس، افعال، انسانی وسائل، بجٹ اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے 7 سے 16 نومبر تک تمام صوبوں کی روایتی ثقافت کی نمائش کرنے والے 10 روزہ لوک میلے کے انعقاد سے بھی آگاہ کیا۔ کمیٹی نے لوک میلہ میں نوجوانوں کی مصروفات پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی ۔

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بریفنگ دی اور بتایا کہ نیشنل آرٹس گیلری میں روزانہ 500 افراد آتے ہیں۔ اسی طرح قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے ریزیڈنٹ انجینئر نے بتایا کہ مزار پر سالانہ تقریباً 20 لاکھ زائرین آتے ہیں۔ اکیڈمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن نے کمیٹی کو ادارے کے کام کے بارے میں آگاہ کیا جس میں 22 قومی ادبی ایوارڈز اور کمال فن (لائف ٹائم اچیومنٹ) ایوارڈ کی سالانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ مقامی ادیبوں کے لئے وظیفہ اور علمی اداروں کے لئے گرانٹس بھی شامل ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں فنکاروں کو دیئے گئے تمام فنڈز کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی کے ایک رکن نے ڈویژن کی تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فعال کرنے کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ سینئر جوائنٹ سیکرٹری نے اس امر کی تصدیق کی کہ تمام ادارے اپنے ایکٹو اکاؤنٹس کو برقرار رکھتے ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ان اکاؤنٹس کے لنکس فراہم کئے جائیں۔ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران اقبال اکیڈمی پاکستان کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ادارے کیلئے قائداعظم محمد علی جناح نے علامہ اقبال کی تخلیقات کے فروغ کے لیے 1948 میں ایک لاکھ روپے مختص کئے تھے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اکیڈمی نے علامہ اقبال پر 27 زبانوں میں 500 کتابیں شائع کی ہیں اور ان کے 1730 خطوط کو بھی محفوظ کیا گیا ہے، 2027 میں علامہ اقبال کے 150 ویں یوم پیدائش کی شاندار تقریبات کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔

- Advertisement -

کمیٹی نے علامہ محمد اقبال کے تمام ادبی کام کو ڈیجیٹائز کرنے اور نوجوانو طبقہ کی آگاہی کے لئے سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کی بھی ہدایت کی۔ ڈائریکٹر نے یہ بھی بتایا کہ نرسری سے لے کر پوسٹ ڈاکٹریٹ کی سطح تک علامہ اقبال پر ایک جامع نصاب تیار کر کے منظوری کے لئے وفاقی وزارت تعلیم کو پیش کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے اس عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ مزید برآں ایوان اقبال کمپلیکس کے ایڈمنسٹریٹر نے علامہ محمد اقبال کی میراث کو برقرار رکھنے کے حوالہ سے نوجوانوں کی شمولیت کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی نے اس مقصد کے لیے پاکستان بھر سے طلبہ کو مدعو کرنے کی ہدایت کی۔ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (این اے پی اے) کے حکام نے کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ کے دوران تھیٹر، آرٹس اور موسیقی میں ادارہ کے 3 سالہ ڈپلومہ پروگراموں کے بارے میں بتایا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں گزشتہ چار سال کے تمام طلباء کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ کے دوران محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھروں کے حکام کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ ما۔سوائے اسلام آباد آثار قدیمہ کے تمام مقامات 2011 میں صوبوں کو منتقل کر دیئے گئے تھے۔

نیشنل لائبریری آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو ادارے کے افعال، انسانی وسائل، بجٹ مختص کرنے، دفاتر اور باقاعدہ سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ ادارہ برائے فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ اردو زبان کے فروغ اور ترقی کے لئے عملی اقدامات میں اضافہ کیا جائے اور مقابلہ کے امتحانات میں اردو میں امتحانات کی منظوری کے لئے اقدامات کو تیز کیا جائے۔ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی شائستہ خان، شہناز سلیم ملک، ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید، غزالہ انجم، نعیمہ کشور خان، اور سنجے پروانی نے شرکت کی جبکہ مہتاب اکبر راشدی، نتاشا دولتانہ اور صبا تالپور نے ورچوئل شرکت کی۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔

 

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں