سید نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس
سید نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کے سینئر رکن سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کے 24-2023 اور 25-2024 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری محمد مشتاق نے بتایا کہ اعظم خان سواتی نے ٹھلیاں کی زمین کے حوالے سے پی اے سی کی کارروائی مانگی ہے ، یہ ایک خفیہ دستاویز ہوتی ہے ، پی اے سی ہی اس کی اجازت دے سکتی ہے۔
اگر ایوان میں یہ پیش ہو جائے تو پھر اس کی نقل کوئی بھی لے سکتا ہے ۔ اجلاس کے صدر نشین سید نوید قمر نے ہدایت کی کہ جس اجلاس کی کارروائی کی نقل مانگ رہے ہیں اس کی رپورٹ کو جلد فائنل کر کے ایوان میں پیش کر دیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ پٹرولیم ڈویژن کی 25-2024 کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ یو ایف جی کی مد میں 80 ارب روپے کا نقصان ہوا جس کی وجہ اوگرا نے اپنی مقررہ حد سے تجاوز کیا ۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا کہ رپورٹ میں اس آڈٹ اعتراض کے حوالے سے اعدادو شمار درست نہیں ہیں ۔
پی اے سی کے استفسار پر پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا کہ بلوچستان کو 120 ایم ایم سی ایف ٹی گیس فراہم کی جاتی ہے ، وہاں پر 36 فیصد سے زائد نقصان ہے ، ہماری کوششوں سے ان نقصانات میں کمی آرہی ہے ۔ پی اے سی کے ارکان کا کہنا تھا کہ سسٹم سے گیس کی فراہمی نصف کر دی گئی ہے ۔
پی اے سی نے آڈٹ پیرا واپس ڈی اے سی کو بھجوا دیا ۔ پی اے سی کو بتایا گیا کہ سندھ کے شہروں حیدر آباد اور سکھر میں گیس میٹرز تبدیل کئے ہیں جس کی وجہ سے گیس نقصانات میں کمی آرہی ہے۔ سید حسین طارق نے کہا کہ میٹر تبدیل کرنے کے بعد نقصانات بڑھ کر 17 فیصد ہو گئے ہیں ، جہاں میٹر لگے ہیں وہاں کےگیس نقصان کی تفصیل منگوائی جا سکتی ہے ۔ سید نوید قمر نے کہا کہ چیزوں کو تفصیلی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پی اے سی نے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی اس حوالے سے آڈٹ کو مطمئن کریں پھر یہ نمٹایا جا سکتا ہے ۔








