سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 02 ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوں کی پاسداری اور انصاف کی بالادستی کی ایک اہم مثال ہے۔
عدالت نے بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف جوازوں کو تسلیم نہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں تبدیلی یا اس کا خاتمہ دونوں ممالک کی باہمی رضامندی اور نئے معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بدھ کو اپنے بیان میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ عدالتِ ثالثی کی جانب سے متفقہ طور پر یہ قرار دینا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا ’’التوا‘‘ میں نہیں رکھ سکتا، پاکستان کے مؤقف کی واضح قانونی تائید ہے۔ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اس کی پابندی کا ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کے لیے محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ ہماری زراعت، معیشت، خوراک اور کروڑوں عوام کی زندگیوں سے جڑا ہوا بنیادی حق ہے۔
کسی بھی ملک کو یکطرفہ اقدامات کے ذریعے دوسرے ملک کے جائز آبی حقوق متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی قوانین، سفارتی ذرائع اور پرامن طریقۂ کار کے ذریعے اپنے حقوق کے تحفظ کا حامی رہا ہے۔ آج کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور قانونی راستہ اختیار کرنا ہی دیرپا اور منصفانہ حل کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کے معاملے پر کسی قسم کی ناانصافی یا اپنے جائز آبی حقوق کی خلاف ورزی کو قبول نہیں کرے گا، تاہم پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اہم قانونی فریم ورک ہے اور اس کی مکمل پاسداری خطے کے امن، استحکام اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے








