اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ واقتصادی امورنے ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اپنی تنخواہیں بڑھانے کے معاملہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خزانہ کو ایک ماہ کے اندر ایسے اختیارات کو معقول بنانے کے لیے ترمیمی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، مسابقتی کمیشن کی جانب سے کمیٹی کوبتایاگیا کہ چینی کی صنعت پر 43 ارب 50 کروڑ روپے اور سیمنٹ کی صنعت پر 6 ارب 40 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں تاہم متعلقہ صنعتوں کی جانب سے حاصل کردہ حکم ہائے امتناعی کے باعث یہ رقوم وصول نہیں کی جا سکی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس جمعرات کویہاں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ ورچوئل اثاثہ جات بل2025 غور کیا گیا۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے کمیٹی کو بتایا کہ کہ اسی موضوع پر ایک بل وہ خود بھی سینیٹ میں جمع کروا چکے ہیں جو تاحال زیر عمل ہے اورحکومت نے بھی تقریباً اسی نوعیت کا بل پیش کر دیا ہے۔ کمیٹی نے سیکرٹری قانون و انصاف کو ہدایت کی کہ سینیٹر افنان اللہ خان کی جانب سے کمیٹی اجلاس میں فراہم کردہ سافٹ کاپی کا جائزہ لیا جائے اور اس کا موازنہ آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔
اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستا کی رپورٹ میں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں 26 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی پر بھی غور کیا گیا۔ چیئرمین ایس ای سی پی نے وضاحت کی کہ ماضی میں بھی اسی طرح کے اعتراضات اٹھائے گئے تھے جنہیں بعد میں تفصیلی جواب دینے پر نمٹا دیا گیا۔اجلاس میں ریگولیٹری اداروں کے اختیارات کے تحت اپنی تنخواہیں بڑھانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیاگیا۔کمیٹی کوبتایاگیا کہ تمام موجودہ اداروں میں سے صرف تین ریگولیٹری اداروں کو اپنی تنخواہیں بڑھانے کا اختیار حاصل ہے۔ کمیٹی نے ان اختیارات کو معقول بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا اختیار صرف کابینہ اور وزیراعظم کے پاس ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں کمیٹی نے وزارت خزانہ کو ایک ماہ کے اندر ایسے اختیارات کی معقولیت کے لیے ترمیمی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان(سی سی پی) کی گزشتہ پانچ سالہ کارکردگی کاجائزہ لیاگیا۔
کمیشن کے چیئرمین نے کمیٹی کوبتایا کہ تقریباً 567 قانونی تنازعات کا بیک لاگ ہے جو کئی سالوں سے زیر التواء ہیں تاہم اگست 2023ء سے اب تک 280 مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کہ گزشتہ دو سالوں میں 41 کروڑ 20 لاکھ روپے بطور جرمانہ وصول کیے گئے ہیں۔ چینی کی صنعت پر 43 ارب 50 کروڑ روپے اور سیمنٹ کی صنعت پر 6 ارب 40 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے تھے مگر متعلقہ صنعتوں کی جانب سے حاصل کردہ حکم ہائے امتناعی کے باعث یہ رقم وصول نہیں کی جا سکی۔ مزید برآں کمیٹی نے سیکرٹری قانون و انصاف کو ہدایت کی کہ ان مقدمات کے حل کے لیے کمیشن کو قانونی معاونت فراہم کی جائے۔ اجلاس میں اس حوالہ سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل آف پاکستان کو آئندہ اجلاس میں مدعو کرنے کافیصلہ کیاگیا۔ اجلاس میں انوشہ رحمان احمد خان، فاروق حامد نائیک، احمد خان، محمد عبدالقادر، دلاور خان، افنان اللہ خان، ایڈیشنل سیکرٹری برائے خزانہ و محصولات امجد محمود، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید، چیئرمین سی سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو اور متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔