سینیٹر مشاہد حسین ایشیایورپ پولیٹیکل فورم کے چیئرمین منتخب، یوریشیائی رابطہ کاری کے فروغ میں پاکستان کے کردار کے عزم کا اعادہ ، یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ پلان کا خیرمقدم

بوداپیسٹ ۔30نومبر (اے پی پی):سینیٹر مشاہد حسین سید کو ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم(اے ای پی ایف ) کے چیئرمین کے طور پر متفقہ طور پر منتخب کر لیا گیا۔ یہ انتخاب اس دو براعظمی تنظیم کے سالانہ اجلاس میں عمل میں آیا جو ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں منعقد ہوا اور کل اختتام پذیر ہوا۔ یہ کانفرنس ’’یوریشیا میں امن اور جمہوریت‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد کی گئی جس کی …

بوداپیسٹ ۔30نومبر (اے پی پی):سینیٹر مشاہد حسین سید کو ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم(اے ای پی ایف ) کے چیئرمین کے طور پر متفقہ طور پر منتخب کر لیا گیا۔ یہ انتخاب اس دو براعظمی تنظیم کے سالانہ اجلاس میں عمل میں آیا جو ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں منعقد ہوا اور کل اختتام پذیر ہوا۔ یہ کانفرنس ’’یوریشیا میں امن اور جمہوریت‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد کی گئی جس کی میزبانی ہنگری کی حکمراں جماعت فیدیز نے کی۔ ہنگری کے سابق نائب وزیر خارجہ ژولٹ نیمیتھ کو یورپ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم (اے ای پی ایف ) کا شریک چیئرمین منتخب کیا گیا۔

اس کانفرنس میں 25 ممالک سے تعلق رکھنے والے 35 ارکانِ پارلیمان، سیاسی شخصیات اور تھنک ٹینک کے نمائندگان نے شرکت کی جن میں 15 ایشیا سے اور 10 یورپ سے تھے۔اپنے عہدے کی قبولیت کی تقریر میں سینیٹر مشاہد حسین، جو انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز (ICAPP) کے بھی شریک چیئرمین ہیں، نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں اس منفرد فورم کے لیے دو سالہ مدت کے لیے چیئرمین منتخب کیا کیونکہ ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم واحد غیر سرکاری ادارہ ہے جو یورپ کے سیاسی نمائندوں، عوامی دانشوروں اور تھنک ٹینکس کو ایشیا کے اپنے ہم منصبوں سے جوڑتا ہے اور اس کے اجلاس باری باری ایشیا اور یورپ میں منعقد ہوتے ہیں۔

مشاہد حسین نے ایشیا میں رابطہ کاری کے فروغ میں پاکستان کے کردار خصوصاً جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان اور اس سے آگے یوریشیا تک خاص طور پر جغرافیائی معیشت (جیو اکنامکس) اور جغرافیائی سیاست (جیو پولیٹکس) کی ابھرتی ہوئی حرکیات کے تناظر پر بھی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے پاکستان کو ’’مشرق اور مغرب کے درمیان ایک مثالی پل‘‘ قرار دیا۔سینیٹر مشاہد حسین نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) جیسے اقدام کے ذریعے رابطہ کاری(کنیکٹیویٹی) کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا جس میں سی پیک کو کلیدی کردار قرار دیا ، اس کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) جیسے دیگر اداروں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے نئی سرد جنگ یا تصادم کی سیاست کے تصور کو مسترد کر دیا۔

سینیٹر مشاہد حسین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے 28 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے مقصد اور بلاجواز تنازع مکالمے کے ذریعے ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ایسے امریکی رہنما کے طور پر سراہا جو نہ تو جنگجو ہے اور نہ ہی نئی سرد جنگ کا علمبردار ہے۔ انہوں نے چین، روس، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ پرامن معاہدوں کے حصول کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔سینیٹر مشاہد حسین نے یورپی یونین کے بعض رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو جنگ کو ہوا دینے اور چین و روس کے ساتھ دشمنی کے موقع کی تلاش میں مصروف ہیں۔

انہوں نےکہا کہ اس قسم کی سوچ بالکل فرسودہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ایشیائی اقدار خاندان، مذہب، ایمان اور ہم آہنگی کی اہمیت کو معاشرے میں استحکام کے ستونوں کے طور پر تسلیم کرتی ہیں۔سینیٹر مشاہد حسین نے تجارت، سرمایہ کاری، معیشت، تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان کے یورپ کے ساتھ تعلقات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے پاکستان قانون کی حکمرانی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحفظ اور بقا کے لیے ایک ذمہ دار اور اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے مغرب کے دوہرے معیار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جو اب مغرب کے زیرِ غلبہ نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسا نظام ہوگا جہاں عالمی اکثریت، یعنی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک، گلوبل ساؤتھ کے حصے کے طور پر زیادہ آواز، زیادہ کردار اور زیادہ اثر و رسوخ رکھیں گے۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے بوداپیسٹ میں مدفون مسلمان درویش گل بابا کے مزار پر حاضری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بوداپیسٹ میں گل بابا کا مزار ہنگری کے کثیرالثقافتی ورثے کا مظہر ہےکیونکہ ہنگری ماضی میں سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ رہا جبکہ آج ہنگری یورپی یونین اور نیٹو(NATO) کا رکن ہے۔اس دورے کے دوران سینیٹر مشاہد حسین اور دیگر وفود کے اعزاز میں ہنگری کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ساتھ ساتھ یورپی امور کے وزیر کی جانب سے ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔

مزید خبریں