اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت منعقد ہوا اور اس میں جاز کے 15 فیصد سہ ماہی ٹیرف میں اضافے، پی ٹی اے قوانین، آن لائن کاروبار پر ٹیکس پالیسی اور یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کی طرف سے نصب کیے گئے ٹاورز کے مقامات/نقشے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹرز ندیم احمد بھٹو، ڈاکٹر افنان اللہ خان، ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند، سید کاظم علی شاہ، سیف اللہ سرور خان نیازی اور گردیپ سنگھ نے شرکت کی۔ بریفنگ کے دوران چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیٹی کو بتایا کہ جاز نے پی ٹی اے قوانین کے رول 26 کے تحت اپنے ٹیرف میں 15 فیصد سہ ماہی اضافہ کیا جو کہ معروف آپریٹر کو مخصوص حد کے اندر نرخوں میں اضافے کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ پی ٹی اے پاکستان میں ٹیلی کام آپریٹرز کے کاروبار کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ چیئرمین نے مزید بتایا کہ 2024 میں جاز اور ٹیلی نار نے منافع ریکارڈ کیا جبکہ زونگ اور یوفون کو نقصان اٹھانا پڑا۔
کمیٹی کی چیئرپرسن نے ملک کے مختلف حصوں میں صارفین کو ناقص ٹیلی کام سروسز کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ 1995ء سے زیر التواء سپیکٹرم ایلوکیشن کا ایک مقدمہ جو ابھی تک حل نہیں ہوا، ٹیلی کام سیکٹر کی ترقی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے اس طویل تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے فوری طور پر حل کرنے پر زور دیا۔ چیئرپرسن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں ایک ٹھوس حل پیش کیا جائے ۔انہوں نے اٹارنی جنرل، فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ، پیمرا اور ایف بی آر کو مزید غور و خوض کے لیے طلب کیاہے۔ سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے اندرون سندھ میں طویل لوڈ شیڈنگ کے دوران سیلولر نیٹ ورکس کی عدم دستیابی پر سنگین تشویش کا اظہار کیا اورکہا کہ سیلولر کمپنیوں کے پاس لوڈ شیڈنگ کے دوران خدمات جاری رکھنے کے لیے بیک اپ سہولیات نہیں ہیں۔ دیگر اراکین نے ان خدشات کی تائید کی اور پی ٹی اے پر زور دیا کہ وہ خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ہموار اور بلاتعطل ٹیلی کام سروسز کو یقینی بنائے۔ کمیٹی نے آن لائن کاروباروں پر ٹیکس کے نظام کا بھی جائزہ لیا۔ چیئرپرسن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طرف سے ای-کامرس پر عائد کیے گئے بھاری ٹیکسز پر تنقید کی اور ڈیجیٹل کمیونٹی کو ریلیف فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آن لائن انڈسٹری زیادہ تر چھوٹے کاروباری افراد اور نوجوان اختراع کاروں پر مشتمل ہے جن کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ کمیٹی نے حال ہی میں ایک مصری رکن پارلیمنٹ کے سوشل میڈیا دعوئوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جس نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پاکستان کی اےآئی پالیسی بنانے کے لیے مشاورتی ماہرین کے گروپ میں تعینات کیا گیا ہے۔ سیکرٹری، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے واضح کیا کہ مذکورہ پوسٹ جعلی معلوم ہوتی ہے اور ایسی کوئی سرکاری تعیناتی کبھی نہیں کی گئی۔ چیئرپرسن نے وزارت کو ہدایت کی کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائے اور اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کی جائے۔ یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ پاکستان بھر میں 4,206 یو ایس ایف سائٹس فی الحال فعال ہیں۔ یو ایس ایف تنصیب کا نقشہ تفصیل سے پیش کیا گیا جس میں ملک بھر میں فراہم کی جانے والی خدمات کی تفصیلات شامل تھیں۔ چیئرپرسن نے کہا کہ گوادر میں 22 یو ایس ایف ٹاورز فعال ہیں لیکن انہوں نے کوریج کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اراکین نے کئی دیگر مقامات کی نشاندہی کی جہاں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی کمی ہے اور یو ایس ایف کو ہدایت کی کہ ملک بھر میں بغیر کسی رکاوٹ کے رابطے کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ آلات نصب کیے جائیں۔