سینیٹ سے27 ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیاگیا

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):سینیٹ سے27 ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیاگیا،ترامیم کے حق میں 64 جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔جمعرات کوسینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے 27ویں آئينی ترمیم میں مزید ترامیم قومی اسمبلی سے منظور کردہ صورت میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔تحریک کی منظوری …

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):سینیٹ سے27 ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیاگیا،ترامیم کے حق میں 64 جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔جمعرات کوسینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے 27ویں آئينی ترمیم میں مزید ترامیم قومی اسمبلی سے منظور کردہ صورت میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔تحریک کی منظوری کے بعد انہوں نے ترمیمی مسودہ ایوان میں پیش کیا۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ایوان سے ترامیم کی شق وار منظوری لی۔آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کے بعد تقسیم کے ساتھ ووٹنگ کا عمل کیا گیا اور سینیٹ میں 5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں جبکہ اس دوران سینیٹ ہال کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیئے گئے۔ووٹنگ کے دوران 64 ووٹ بل کی حمایت میں اور 4 مخالفت میں آئے۔ بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 27 ویں ترمیم کی نئی ترامیم کی ووٹنگ کے دوران 64 ووٹ بل کی حمایت میں اور 4 مخالفت میں آئے۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترامیم کی دوتہائی اکثریت سے منظوری کا اعلان کیا۔

ترامیم کی منظوری کے دوران اپوزیشن نےایوان میں شورشرابہ جاری رکھا جس پر چیئرمین سینیٹ نے انہیں نعرے بازی سے منع کیا۔سینیٹ سے منظور 27ویں آئینی ترمیم میں 6اضافی ترامیم منظور کیا گیا۔آرٹیکل 6 کی شق 2اے میں ترمیم کر کے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے ساتھ وفاقی آئینی عدالت کو شامل کرلیا گیا جبکہ آرٹیکل 10سمیت دیگر پانچ آئینی ترامیم میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو شامل کیا گیا ہے۔

ترمیم کے تحت چیف جسٹس آئینی عدالت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سے سینئر چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔ ترمیم کے تحت صدر مملکت ،چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل سے حلف لینے کے مجاز چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ چیف جسٹس آئینی عدالت کا تقرر تین سال کیلئے کریں گے اور ججز کی ریٹائرمنٹ کی حد 68 سال ہوگی۔